Al-Risala · September 2007 · page 33

انسان کا وجود، خدا کے وجود کا ثبوت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۳

انتخاب (option) ہوتا ہے۔ آدمی مجبور ہوتا ہے کہ اُس ایک انتخاب کو تسلیم کرے۔ کیوں کہ اس میں ایک کے سوا کوئی اور انتخاب سرے سے ممکن ہی نہیں ہوتا۔ مجبورانہ منطق کے معاملے میں صورتِ حال یہ ہوتی ہے کہ آدمی کو لازمی طور پر ماننا بھی ہے، اور ماننے کے لیے اس کے پاس ایک انتخاب کے سوا کوئی دوسرا انتخاب موجود نہیں۔

مجبورانہ منطق کی ایک قریبی مثال ماں کی مثال ہے۔ ہر آدمی کسی خاتون کو اپنی ماں مانتا ہے۔ وہ مجبور ہے کہ ایک خاتون کو اپنی ماں تسلیم کرے۔ حالاں کہ اُس نے اپنے آپ کو اْس خاتون کے بطن سے پیدا ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ اس کے باوجود وہ اپنی ماں کو یقین کے ساتھ ماں مانتا ہے۔ یہ ماننا، مجبورانہ منطق کے اصول کے تحت ہوتا ہے۔ ایسا وہ اس لیے کرتا ہے کہ اس معاملے میں اُس کی پوزیشن یہ ہے کہ اس کو ایک خاتون کو ہر حال میں اپنی ماں ماننا ہے۔ اسی لیے وہ اپنی ماں کو یقین کے ساتھ اپنی ماں تسلیم کر لیتا ہے۔ کیوں کہ اس کیس میں اُس کے لیے کوئی دوسرا انتخاب (option) موجود نہیں۔

خدا کے وجود کو ماننے کا تعلق بھی اسی قسم کی مجبورانہ منطق سے ہے۔ خدا کے وجود کے پہلو سے اصل قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس معاملے میں ہمارے لیے کوئی دوسرا انتخاب ہی نہیں۔ ہم مجبور ہیں کہ خدا کے وجود کو مانیں۔ کیوں کہ اگر ہم خدا کے وجود کو نہ مانیں تو ہمیں کائنات کے وجود کی، اور خود اپنے وجود کی نفی کرنی پڑے گی ۔ چوں کہ ہم اپنی اور کائنات کے وجود کی نفی نہیں کر سکتے ، اس لیے ہم خدا کے وجود کی بھی نفی نہیں کر سکتے۔

انسان کا وجود، خدا کے وجود کا ثبوت

وسیع کائنات میں صرف انسان ہے جو خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے۔ حالاں کہ انسان کا خود اپنا وجود، خدا کے وجود کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اگر انسان جیسی ایک ہستی یہاں موجود ہے تو خدا بھی یقینی طور پر موجود ہے۔ انسان کے اندر وہ تمام صفتیں ناقص طور پر موجود ہیں جو خدا کے اندر کامل طور پر موجود ہیں۔ اگر ناقص ہستی کا وجود ہے تو کامل ہستی کا بھی یقینی طور پر وجود ہے۔ ایک کو ماننے کے بعد دوسرے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues

Printed page