I think, therefore I exist.
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۴
کونہ ماننا، ایک ایسا منطقی تضاد ہے جس کا تحمل کوئی بھی صاحب عقل نہیں کر سکتا۔ ڈیکارٹ (Rene Descartes) مشہور فرنچ فلسفی ہے۔ وہ 1596 میں پیدا ہوا اور 1650 میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کے سامنے یہ سوال تھا کہ انسان اگر موجود ہے تو اس کی موجودگی کا عقلی ثبوت کیا ہے۔ لمبے غور وفکر کے بعد اس نے اس سوال کا جواب ان الفاظ میں دیا— میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں:
I think, therefore I exist.
ڈیکارٹ کا یہ جواب منطقی اعتبار سے ایک محکم جواب ہے۔ مگر یہ منطق، جس سے انسان کا وجود ثابت ہوتا ہے، وہ اس سے بھی زیادہ بڑی بات کو ثابت کر رہی ہے، اور وہ ہے خدا کے وجود کا عقلی ثبوت۔ اس منطقی اصول کی روشنی میں یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ — سوچ کا وجود ہے، اس لیے خدا کا بھی وجود ہے:
Thinking exists, therefore God exists.
سوچ ایک مجرد (abstract) چیز ہے۔ جو لوگ خدا کا انکار کرتے ہیں، وہ اسی لیے خدا کا انکار کرتے ہیں کہ خدا انھیں ایک مجرد تصور معلوم ہوتا ہے، اور مجرد تصور کی موجودگی ان کے لیے ناقابلِ فہم ہے، یعنی ایک ایسی چیز کو ماننا جس کا کوئی مادی وجود نہ ہو۔ لیکن ہر انسان سوچنے والی مخلوق ہے۔ خود اپنے تجربے کی بنیاد پر ہر آدمی سوچ کے وجود کو مانتا ہے۔ حالاں کہ سوچ مکمل طور پر ایک مجرد تصور ہے، یعنی ایک ایسی چیز جس کا کوئی مادی وجود نہیں۔
اب اگر انسان ایک قسم کے مجرد تصور کے وجود کو مانتا ہے تو اُس پر لازم آجاتا ہے کہ وہ دوسری قسم کی مجرد تصور کے وجود کو بھی تسلیم کرے۔ یہ بلاشبہ خدا کے وجود کا ایک ایسا ثبوت ہے جس کا تجربہ ہر آدمی کرتا ہے اور جس کی صحت کو ہر آدمی بلا اختلاف مانتا ہے۔ اگر سوچ کے وجود کا انکار کر دیا جائے تو اس کے بعد یقینی طور پر انسان کے وجود کا اور خود اپنے وجود کا انکار کرنا پڑے گا۔ کوئی بھی آدمی اپنے وجود کا انکار نہیں کر سکتا، اس لیے کسی بھی آدمی کے لیے منطقی طور پر یہ ممکن نہیں کہ وہ خدا کے وجود کا انکار کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2007 All issues