نسخ کیا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۳
موجودہ زمنے میں ہمیشہ سے زیادہ لوگ حج کے لیے مکہ جاتے ہیں، مگر اب یہ لوگ موٹر اور ہوائی جہاز سے اُس کا سفر کرتے ہیں۔ بظاہر دیکھیے تو یہ بھی نسخ کی ایک صورت ہے۔ اس نسخ میں حقیقت نہیں بدلی ہے، بلکہ اس کی ظاہری صورت بدلی ہے۔ اس معاملے کی اصل حقیقت سواری ہے۔ پہلے زمانے میں سواری کی عملی صورت اونٹ ہوتے تھے۔ اس لیے لوگ اونٹ پر سفر کرتے تھے۔ اب سواری کی عملی صورت ہوائی جہاز ہے۔ اس لیے اب لوگ ہوائی جہاز کے ذریعے یہ سفر طے کرتے ہیں۔
اسی طرح دفاعی جنگ کی تیاری کے لیے قرآن میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ: اور ا اُن کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے، تیار رکھو قوت اور پلے ہوئے گھوڑے کہ اس سے تمھاری ہیبت رہے اللہ کے دشمنوں پر اور تمھارے دشمنوں پر (الأنفال : 60)
جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ زمانے کی مسلم حکومتیں دفاعی تیاری کے لیے جدید ہتھیار کا سہارا لیتی ہیں، یہ بھی گویا کہ نسخ کی ایک صورت ہے۔ غور کیجیے تو اس حکم کی اصل حقیقت دفاعی تیاری ہے۔ اس دفاعی تیاری کی ظاہری شکل پہلے زمانے میں گھوڑا ہوتا تھا، اب اُس کی ظاہری شکل مشینی ہتھیار بن گئے ہیں۔
یہی معاملہ قتال (جنگ) کا بھی ہے۔ قرآن کی چند آیتوں میں دفاع کے لیے قتال کی اجازت دی گئی ہے۔ فقہانے کہا ہے کہ اسلام میں قتال حسن لذاتہ نہیں ہے، بلکہ وہ حسن لغيره ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قتال، نماز کی طرح مطلق طور پر مطلوب نہیں ہے بلکہ اُس کی مطلوبیت اضافی ہے، یعنی ضرورت کے وقت قتال، اور جب ضرورت نہیں تو قتال بھی نہیں۔
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کو قتال کا جو حکم دیا گیا تھا، اُس کا مقصد 'فتنہ' کو ختم کرنا تھا۔ قرآن کی سورہ نمبر آٹھ میں ارشاد ہوا ہے: اور اُن سے لڑو، یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے۔ اور دین سب اللہ کا ہو جائے (الأنفال : 38) اس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues