Al-Risala · October 2007 · page 14

نسخ کیا ہے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۴

قدیم بادشاہت کے نظام میں ہر جگہ یہ مذہبی جبر قائم تھا۔ بادشاہ لوگ اسٹیٹ کے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کے اختیار کرنے کو اپنے خلاف بغاوت سمجھتے تھے، اس لیے ایسے مذہب کو وہ ہمیشہ کچل دیتے تھے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں ہوئی۔ اِس وقت قدیم بادشاہت کے تحت، ہر جگہ مذہبی جبر کا نظام قائم تھا۔ پیغمبر اسلام نے مذہب توحید کا اعلان کیا تو وہ اُس وقت کے تمام اَرْبابِ اقتدار کے اختیار کردہ مذہب کے خلاف تھا، اس لیے وہ اس کو کچلنے کے لیے سرگرم ہو گئے۔

سب سے پہلے عرب مشرک سرداروں نے اِس کو ختم کرنا چاہا، لیکن خدا کی خصوصی نصرت سے چند مقابلوں کے بعد ان کے اوپر فتح حاصل ہوگئی۔ اِس طرح خود پیغمبر اسلام کے زمانے میں اُس وقت کے دو بڑے ایمپائر، ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر، آپ کے مشن کے دشمن بن گئے۔ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد خلافتِ راشدہ کے زمانے میں ان شہنشاہیتوں کی جارحیت کے نتیجے میں اُن سے لڑائی پیش آئی۔ اِس لڑائی میں دوبارہ دونوں شہنشاہیتوں کو شکست ہوئی اور اہل توحید کو فتح حاصل ہوئی۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو قرآن میں فتنہ کے خلاف لڑکر اُس کو ختم کرنا بتایا گیا ہے۔ جب یہ نظامِ اقتدار ختم ہوا تو اس کے نتیجے میں مذہبی جبر کا نظام بھی ختم ہوگیا اور اس کے بجائے مذہبی آزادی کا نظام آگیا۔ تاہم اس قسم کی تبدیلی اچانک پیش نہیں آتی، بلکہ وہ لمبے تاریخی عمل کے بعد اپنی منزل تک پہنچتی ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے جو واقعہ ہوا، وہ یہ تھا کہ مذہبی جبر کا نظام ٹوٹ گیا اور مذہبی آزادی کا پر اسس شروع ہو گیا۔ اس پر اسس کا نقطۂ انتہا (culmination) یورپ میں ہوا، جب کہ ہر انسان کے لیے مذہبی آزادی کو نا قابل تنسیخ حق کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ اب ہم اِسی دور میں جی رہے ہیں۔ آج کی دنیا میں آزادی کو خیر اعلیٰ (summun bonum) سمجھا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ڈکلیریشن آف ہیومن رائٹس میں اس کو درج کیا گیا اور دنیا کی تمام قوموں نے اُس پر اپنے دستخط ثبت کیے۔ اور ہر ملک کے دستور میں مذہبی آزادی کو مطلق انسانی حق کا

‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues

Printed page