اسلام کی سیاسی تعبیر کا فتنہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۶
اسلام کی سیاسی تعبیر کا فتنہ
پرنٹنگ پریس کا زمانہ آنے کے بعد مسلم دنیا میں کچھ انقلابی مفکرین اٹھے۔ یہ لوگ اسلام کی سیاسی حاکمیت قائم کرنے کے نام پر جہاد اور قتال کی پُر زور تبلیغ کرنے لگے۔ اب مسلم دنیا، اِسی قسم کے انقلابی مفکرین کی تیسری نسل کو دیکھ رہی ہے۔ پہلی نسل کے مفکرین میں سید جمال الدین افغانی اور ڈاکٹر محمد اقبال کا نام لیا جاسکتا ہے۔ دوسری نسل کے مفکرین میں سید قطب اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کے نام شامل ہیں۔ تیسری نسل کے مفکرین میں اسامہ بن لادن اور ڈاکٹر اسرار احمد کے نام معروف ہیں۔ یہ انقلابی ذہن دراصل ایک طرف خلافتِ عثمانیہ کے زوال اور دوسری طرف مسلم دنیا کے بڑے حصے پر نو آبادیاتی نظام کے غلبے کا رد عمل تھا۔ ابتدائی دور میں یہ لوگ صرف مسلمانوں کے سیاسی اقتدار کی واپسی پر زور دیتے تھے، پھر دھیرے دھیرے یہ ذہن ایک مکمل نظریے اور فلسفے کی روپ میں ابھرا۔ اب یہ کہا جانے لگا کہ - اسلام ایک مکمل نظام ہے (الإسلام دین شامل و کامل)، اِس لیے ضروری ہے کہ اسلام کو ایک کامل ریاست کے طور پر قائم کیا جائے، اِس کے بغیر اسلام ناقص رہے گا، اور ناقص اسلام ہمارے لیے دنیا میں بھی خسارے کا سبب ہے اور آخرت میں بھی خسارے کا سبب۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اسلام کی سیاسی تعبیر کا ذہن تدریجی طور پر بنا۔ پہلی نسل کے مسلم رہنماؤں کا نشانہ زیادہ تر زمین کی واپسی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ مسلم علاقوں پر مغربی قوموں نے غلبہ حاصل کر لیا ہے، اب ہمیں اِس غلبے کو ختم کر کے مسلم علاقے کو دوبارہ آزاد کرانا ہے۔ سید جمال الدین افغانی نے اِس بات کو الشَّرْقُ للشّرقیین‘کے کے الفاظ میں بیان کیا تھا، یعنی مشرق کے مسلم ممالک سے مغربی غلبے کو ختم کر کے دوبارہ اُس کو مشرق کے مسلمانوں کے قبضے میں دینا۔
بعد کو شعوری یا غیر شعوری طور پر مسلم رہنماؤں کے اندر یہ ذہن بنا کہ مسلمانوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو وہ اپنا حامی بنا سکیں، چناں چہ عالمی اسلامی اتحاد (Pan-Islamism) کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انھوں نے یہ کیا کہ سیاسی مسئلے کو اعتقادی مسئلے کی حیثیت سے پیش کرنا شروع کر دیا، یعنی انھوں
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues