اسلام کی سیاسی تعبیر کا فتنہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۷
نے مسلمانوں کو یہ تاثر دینا چاہا کہ اُن کی مہم صرف ایک قومی مہم نہیں ہے، بلکہ وہ خالص مذہبی مہم ہے۔ اس طرح انھوں نے ایک سیاسی مسئلے کو اعتقادی مسئلہ بنا دیا۔ انھوں نے اپنی تقریر اور تحریر کے ذریعے مسلمانوں کو یہ تاثر دینا شروع کیا کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے، جس میں سیاست بھی لازماً شامل ہے۔ اگر مسلمان، اسلام کو ایک مکمل نظام کے طور پر غالب اور نافذ نہ کریں تو ان کا اسلام ہی ادھورا رہ جائے گا۔
اس مقصد کے لیے بہت سی کتابیں لکھی گئیں۔ ان کتابوں میں اسلام کی تعبیر ایک مکمل نظام حیات کے طور پر کی گئی۔ اسلام کی سیاسی تعبیر کے طور پر لٹریچر تیار کیا گیا، اُن میں سے قرآن کی دو مکمل تفسیریں بھی تھیں۔ سید قطب کی چھ جلدوں میں عربی تفسیر ”فی ظلال القرآن‘‘ اسی فکر کے تحت لکھی گئی۔ اسی طرح سید ابوالاعلیٰ مودودی کی چھ جلدوں میں لکھی جانے والی تفسیر ”تفہیم القرآن‘‘ بھی خاص اسی نظریے کے تحت تیار کی گئی۔ جو آدمی ان دونوں تفسیروں کو پڑھتا ہے، اُس کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ اسلام ایک مکمل سیاسی نظام ہے اور اس کو زمین پر غالب اور نافذ کرنا، یہی امت مسلمہ کا اصل مشن ہے۔ ان مسلم رہ نماؤں نے اپنے نقطۂ نظر کی بنا جن آیتوں اور حدیثوں پر رکھی، وہ سب کی سب بلاشبہ بے بنیاد تھیں۔ ان کی یہ تشریحات یا تو تفسیر بالرائے ہیں، یا وہ تحریف کی نوع سے تعلق رکھتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ان حضرات نے یہ کام غیر شعوری طور پر کیا ہو، لیکن جہاں تک اُن کے استدلال کی علمی حیثیت کا تعلق ہے، وہ بلاشبہ مکمل طور پر غلط اور غیر اسلامی ہیں۔ یہاں ہم ان کے بعض دلائل کا تجزیہ کریں گے۔
چند مثالیں
1 - قرآن کی سورہ نمبر بارہ میں آیا ہے کہ حضرت یوسف نے جیل میں اپنے رفیق پر تبلیغ کرتے ہوئے کہا: ان الحکم الا للہ، أمر أن لا تعبدوا إلا إياه (یوسف: 40) اس آیت کو لے کر کہا جاتا ہے کہ یہاں ’حکم‘ سے مراد سیاسی اقتدار ہے، حضرت یوسف یہ کہہ رہے ہیں کہ سیاسی اقتدار صرف خدا کا حق ہے، اس لیے خدا ہی کی حکومت زمین پر قائم ہونا چاہیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues