Al-Risala · October 2007 · page 18

اسلام کی سیاسی تعبیر کا فتنہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۸

یہ تفسیر بلا شبہ ایک باطل تفسیر ہے۔ اس آیت کا پورا سیاق بتا رہا ہے کہ یہاں حکم سے مراد فوق الفطری اقتدار ہے، یعنی وہی بات جسے قرآن میں دوسرے مقام پر ربّ العالمین کہا گیا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ زمین اور آسمان کا خالق و مالک صرف خدا ہے، نہ کہ تمھارے مفروضہ معبود۔ اس لیے تم کو چاہیے کہ تم اصنام کی پوجا چھوڑ دو اور صرف ایک خدا کی عبادت کرو۔ خود حضرت یوسف کی عملی روش سے یہی بات ثابت ہوتی ہے، کیوں کہ حضرت یوسف نے مصر کے معاصر بادشاہ کے تحت ایک سرکاری عہدہ قبول کر لیا، حالاں کہ یہ بادشاہ مشرک تھا اور وہ اپنے قومی مذہب کے مطابق ، اصنام پرستی میں مبتلا تھا۔ 2- اس معاملے میں ایک استدلال ایک صحابی کے قول کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ یہ صحابی ربعی بن عامر تھے۔ وہ حضرت عمر کی خلافت کے زمانے میں مسلم فوج کے ساتھ ایران گئے ، وہاں ان کی گفتگو ایرانی سپہ سالار رستم سے ہوئی۔ اُس نے پوچھا کہ تم لوگ کیوں ہمارے ملک میں آئے ۔ ربعی بن عامر نے جواب دیا کہ ہم یہاں اس لیے آئے ہیں تا کہ خدا کے بندوں کو بندوں کی عبادت سے نکال کر خدا کی عبادت میں لائیں (لِنُخرِجَ مَن شَاءَ مِن عبادة العباد إلى عبادة الله، تاریخ طبری) صحابی کے اس قول کو لے کر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسلام کا مشن 'تحریر الانسان‘ ہے ، یعنی انسان کو انسانی جبر اور انسانی استحصال سے آزاد کرانا۔

یہ تشریح سرتاسر غیر علمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اور اصحابِ رسول کو جو مشن سپرد کیا تھا ، وہ ان کے زمانے ہی میں انجام پا گیا۔ اُس زمانے میں ساری دنیا میں بادشاہت کا نظام تھا اور بادشاہ لوگ اپنے سیاسی مفاد کے لیے مذہبی جبر (religious persecution) قائم کیے ہوئے تھے۔ یہ نظامِ جبر، خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف تھا، اس لیے خدا نے حکم دیا کہ اس جبر کا خاتمہ کر دو۔ چناں چہ پہلے عرب میں اس کو ختم کیا گیا ، اس کے بعد ایرانی شہنشاہیت اور رومی شہنشاہیت کا خاتمہ کر کے ایک ایسے دور کا آغاز کیا گیا جس کے نتیجے میں ساری دنیا میں مذہبی جبر کے بجائے ، مذہبی آزادی کا دور دورہ ہو۔ اسی حقیقت کو صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن عمر نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا : فعلنا علیٰ عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم (فتح الباری، جلد 8، صفحہ 32)، یعنی وہ تو ہم نے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues

Printed page