اسلام کی سیاسی تعبیر کا فتنہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۹
عہد رسالت ہی میں آخری طور پر انجام دے دیا۔ اب اہل اسلام کے لیے کرنے کا کام یہ ہے کہ وہ مذہبی آزادی کے مواقع کو استعمال کرکے دعوت الی اللہ کا کام کریں ، نہ کہ جھوٹی لڑائی چھیڑ کر دوبارہ دنیا میں جبر کا ماحول قائم کردیں۔
3- ایک حدیثِ رسول ، ابن ماجہ، الترمذی اور مسند احمد میں آئی ہے۔ اس کو مشکوٰۃ المصابیح میں حدیث نمبر 29 کے تحت دیکھا جاسکتا ہے۔ اس روایت کے مطابق ، ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھ کو جنت میں داخل کردے اور مجھ کو جہنم سے دور کردے۔ اس کے جواب میں آپ نے اُن کو عبادتِ خدا، روزہ، نماز، حج، زکوٰۃ، ذکر اللہ، صدقہ (انفاق) اور حفظِ لسان کی تلقین کی۔ آپ نے جو جواب دیا، اُس میں ایک جملہ یہ تھا: وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الجهاد (اور اُس کی چوٹی جہاد ہے)۔
وَذِرْوَةُ سَنَامِ الجهاد‘ کے جملے کو لے کر یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام میں خیر اعلیٰ (summum bonum) گردن کٹانا ہے، یعنی جہاد اور قتال کرکے ساری دنیا میں اسلام کی حکومت قائم کرنا، اور خدا کی زمین پر خدا کے احکام نافذ کرنا۔
حدیث کی یہ تشریح سخت غیر علمی اور غیر منطقی ہے۔ اس میں جہاد کا لفظ ہے ، نہ کہ قتال کا لفظ۔ سیاق کے مطابق ، یہاں جہاد سے مراد جہادِ نفس ہے، جیسا کہ دوسری حدیث میں آیا ہے : المجاهد من جاهد نفسه فى طاعة الله (مسند احمد، جلد 6، صفحہ 21) بالفرض اگر اس حدیث میں جہاد کو قتال کے معنی میں لیا جائے ، تب بھی وہ صرف بوقتِ جارحیت قتال کے معنی میں ہوگا ، پھر بھی اس سے یہ خود ساختہ مفہوم نہیں نکلتا کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے اور اس کو لڑ کر ساری دنیا میں نافذ کرنا ہے۔
اسلام کی سیاسی تعبیر کے موضوع پر جو کچھ اردو، یا عربی ، یا انگریزی میں لکھا گیا ہے، اُس کا بڑا حصہ میں نے پڑھا ہے۔ ذاتی مطالعے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ یہ تعبیر کسی نص کی بنیاد پر قائم نہیں ہے، وہ صرف قیاس اور استنباط کی بنیاد پر قائم ہے۔ اور یہ ایک مسلم بات ہے کہ اساسی امور میں منصوص استدلال
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues