فتویٰ کا غلط استعمال
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۵
جیسا کہ معلوم ہے، کعبہ یا بیت اللہ کو مکہ میں چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بنایا تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ساتویں صدی عیسوی کے رُبعِ اول میں ہوئی۔ اُس وقت وہاں کعبہ کی جو سنگی عمارت تھی، وہ ابراہیمی تعمیر کے مطابق نہ تھی۔
تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کعبہ کی ابراہیمی عمارت بارش کی وجہ سے ڈھ گئی تھی۔ اُس وقت مکہ کے لوگوں نے کعبہ کی دوبارہ تعمیر کی۔ مکہ کے یہ لوگ مشرک اور بت پرست تھے۔ گویا کہ رسول اللہ کی بعثت کے وقت مکہ میں خانہ کعبہ کی جو عمارت تھی، وہ مشرکین کے ہاتھوں بنائی گئی تھی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اِس پر اعتراض نہیں کیا، یہاں تک کہ ہجرت کے آٹھویں سال جب مکہ فتح ہو گیا اور رسول اللہ کو وہاں کا اختیار حاصل ہو گیا، تب بھی آپ نے ایسا نہیں کیا کہ آپ مشرکین کے بنائے ہوئے کعبہ کو ڈھائیں اور دوبارہ اس کو اہل ایمان کے ذریعے تعمیر کرائیں۔
تاریخ مزید بتاتی ہے کہ فتح مکہ کے وقت کعبہ کے اوپر جو غلاف تھا، وہ مشرکین کا بنایا ہوا تھا۔ اُس کو بنانے میں بت پرستوں کا مال استعمال ہوا تھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر فتح حاصل کرنے کے باوجود اِس قدیم غلاف کو نہیں بدلا۔ بعد کو ایسا ہوا کہ ایک عورت کی غلطی سے یہ غلاف جل گیا۔ اِس کے بعد آپ نے نیا غلاف تیار کر کے اُس کے اوپر ڈالا۔ گویا کہ غلاف کی تبدیلی صرف اُس وقت کی گئی، جب کہ یہ تبدیلی ایک ناگزیر ضرورت بن گئی تھی۔
تاریخ میں اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جو واضح طور پر یہ بتاتے ہیں کہ مسجد یا مدرسے میں غیر مسلم کا تعاون لینا جائز ہے، اس میں کسی بھی قسم کا کوئی حرج نہیں۔ ایسے فعل کو دین میں مداخلت کہنا، سرتا سر غلط ہے، بلکہ وہ فتنه انگیز ہے۔ کیوں کہ اس سے مسلم اور غیر مسلم کے درمیان تعلقات غیر ضروری طور پر بگڑ سکتے ہیں۔
کسی مسجد یا مدرسے کی بلڈنگ بذات خود مسجد یا مدرسہ نہیں ہے، وہ صرف مسجد یا مدرسے کا ظاہری ڈھانچہ ہے۔ مسجد اصلاً عبادت کا مقام ہے، اسی طرح مدرسہ اصلاً تعلیم کا مقام ہے۔ ظاہری
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues