Al-Risala · October 2007 · page 36

فتویٰ کا غلط استعمال

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۶

ڈھانچے کے بارے میں اس قسم کے فتوے یا بیانات، اسلام کی روح کو سخت نقصان پہنچانے والے ہیں۔ اس سے غیر ضروری طور پر ساری اہمیت ڈھانچے کی بن جاتی ہے۔ حالاں کہ صحیح یہ ہے کہ عبادت اور تعلیم کو اہمیت دی جائے۔ سارا زور اور تاکید بہتر عبادت اور بہتر تعلیم پر ہو۔ ڈھانچے کے بارے میں اس قسم کی باتیں کرنا، لوگوں کے ذہن کو بگاڑنا ہے۔ اور ذہن کو بگاڑنا، اسلام میں ایک جرم کی حیثیت رکھتاہے۔

اس قسم کا منفی ذہن مسلمانوں کے اندر کیوں پیدا ہوا، اُس کا سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ مسلمانوں نے موجودہ زمانے میں دعوت کا مزاج کھو دیا۔ دوسری اقوام ان کے لیے مدعو نہ رہیں، بلکہ وہ اُن کی حریف اور رقیب بن گئیں۔ اِسی منفی مزاج کا نتیجہ ہے جو کہ مذکورہ قسم کی نامحمود چیزوں کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے۔

صحیح مسلم مزاج وہ ہے جس کو دعوتی مزاج کہا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مسلمانوں کا جو موجودہ مزاج ہے، وہ قومی مزاج ہے نہ کہ دعوتی مزاج۔ دعوت، دوسرے انسانوں تک خدا کا ابدی پیغامِ رحمت پہنچانے کا نام ہے۔ اس قسم کا مشن اپنے آپ داعی کو دوسرے انسانوں کا ہمدرد اور خیر خواہ بنا دیتا ہے۔ یہ مشن آدمی کے اندر دوسرے انسانوں کے لیے محبت کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ یہ مشن آدمی کو دوسرے انسانوں کے حق میں نرم اور شفیق بنا دیتا ہے۔

قومی مزاج کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ قومی مزاج آدمی کے اندر دوسروں کے خلاف رقیبانہ مزاج پیدا کر دیتا ہے۔ قومی مزاج ہمیشہ مادی مفادات کی بنیاد پر بنتا ہے۔ اس قسم کے مزاج میں دوسروں کے لیے شکایات ہوتی ہیں، نہ کہ ہمدردی اور خیر خواہی۔ آج کل مسلمانوں کے اندر عام طور پر یہی قومی مزاج بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دوسروں کے بارے میں منفی نفسیات میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ یہ منفی مزاج اُن کے تمام مسائل کا اصل سبب ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues

Printed page