Al-Risala · October 2007 · page 37

بدلتی ہوئی دنیا میں مسلمانوں کا لائحہ عمل

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۷

بدلتی ہوئی دنیا میں مسلمانوں کا لائحہ عمل

5 اگست 2007 کی شام کو راقم الحروف نے ایک کشمیری اجتماع کو خطاب کیا۔ یہ ٹیلی فون پر ہونے والا ایک خطاب تھا۔ میں نے دہلی سے اپنے ٹیلی فون پر تقریر کی اور سری نگر میں اکٹھا ہونے والے کشمیری مسلمانوں نے اسپیکر ٹیلی فون پر اُس کو سنا۔ یہ خطاب کسی قدر اضافے کے ساتھ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

مجھ سے اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے لائحہ عمل کیا ہے۔ میں کہوں گا کہ اُن کے لائحہ عمل کا پہلا نکتہ ری اسیس مینٹ (re-assessment) ہے، یعنی ماضی میں اپنی کوششوں کا تنقیدی جائزہ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے اپنے ماضی میں جان و مال کی غیر معمولی قربانیاں دی ہیں۔ یہ قربانیاں اب تک جاری ہیں۔ ایسی حالت میں پہلا سوال یہ ہے کہ ان کوششوں کے نتیجے میں مسلمانوں نے کیا پایا اور کیا کھویا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کہنے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے مسلح جدوجہد کے باوجود اپنے مقصد کو کسی بھی درجے میں نہیں پایا، بلکہ انھوں نے صرف اپنی تباہی میں مزید اضافہ کیا ہے۔

ایسی حالت میں موجودہ مسلمانوں کے لیے کرنے کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ جہاد کے نام پر کی جانے والی موجودہ مسلح جدوجہد کو فوراً بند کردیں، تاکہ کم ازکم ایسا ہو کہ وہ اپنے آپ کو مزید تباہی سے بچا لیں۔ جہاد (بمعنی قتال) کا مقصد اپنے آپ کو ہلاک کرنا نہیں ہے، بلکہ کسی مطلوب فائدے کو حاصل کرنا ہے۔ جب مطلوب فائدہ حاصل نہ ہو رہا ہو تو ٹکراؤ کی سیاست حرام کے درجے میں قابلِ ترک ہو جاتی ہے۔ یہی اب مسلمانوں کو کرنا چاہیے۔

میں جون 1989 میں سری نگر گیا تھا۔ وہاں میں نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ اگر آپ شہر سے باہر جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ پہاڑ سے گھری ہوئی وادیوں میں ہر طرف پانی کے چشمے بہہ رہے ہیں۔ یہ چشمے آپ کو خدا کا ایک پیغام دے رہے ہیں۔ اِن چشموں کا حال یہ ہے کہ وہ مسلسل بہہ رہے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues

Printed page