بدلتی ہوئی دنیا میں مسلمانوں کا لائحہ عمل
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۸
ہیں۔ اُن کے راستے میں بار بار پتھر آتے ہیں۔ یہ پتھر بظاہر چشمے کے لیے ایک رکاوٹ ہیں، لیکن چشمہ پتھروں سے نہیں ٹکراتا، بلکہ وہ ٹکراؤ کو اوائڈ کرتے ہوئے پتھر کے دائیں یا بائیں سے نکل جاتا ہے اور اس طرح وہ اپنے سفر کو آگے کی طرف مسلسل جاری رکھتا ہے۔
میں نے کہا تھا کہ کشمیر یوں کو اپنے قریب بہتے ہوئے چشموں سے سبق لینا چاہیے۔ انھوں نے انڈیا سے یا انڈیا کی آرمی سے غیر ضروری ٹکراؤ کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ ٹکراؤ اُنھیں تباہی کے سوا کچھ اور دینے والا نہیں۔ میرا یہ انتباہ اب آخری طور پر درست ثابت ہو چکا ہے۔ اب کشمیری مسلمانوں کے لیے آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے کہ وہ ٹکراؤ یا مسلح جدوجہد کا طریقہ مکمل طور پر چھوڑ دیں۔ وہ پر امن میدان میں اپنی تعمیر کے کام میں لگ جائیں۔
آج کل نہ صرف کشمیر کے مسلمان، بلکہ ہر جگہ کے مسلمان ٹکراؤ کی سیاست کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ عملاً ٹکراؤ کی سیاست چلا رہے ہیں۔ جو لوگ ٹکراؤ کی سیاست میں عملاً شامل نہیں ہیں، وہ بھی اسی انداز میں سوچتے ہیں۔ اُن کے پاس بھی سوچنے کا کوئی اور فریم ورک موجود نہیں۔ اس معاملے پر غور کرنے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان بدقسمتی سے اُس چیز سے محروم ہیں جس کو بصیرت زمانہ کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ ایک نیا زمانہ تھا۔ اب ہر چیز بدل چکی تھی۔ ایسی حالت میں ضروری تھا کہ سب سے پہلے زمانے کو سمجھا جائے اور پھر زمانے کی رعایت سے اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کی جائے، لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔ ہمارے تمام رہ نما رَدِ عمل کی نفسیات کا شکار ہو گئے۔ انھوں نے رد عمل کے تحت، مفروضہ دشمنوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی ۔ اس قسم کی جنگ زمانے سے بے خبری کا نتیجہ تھی، اس لیے وہ مکمل طور پر نا کام ہو کر رہ گئی۔ قدیم زمانے کو زرعی دور کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں ہر جگہ بادشاہت کا رواج تھا۔ اس نظام کے تحت سب سے زیادہ اہمیت پلٹکس کی ہو گئی تھی۔ اس طرزِ فکر کے تحت لوگوں کے پاس سوچنے کا فریم ورک صرف ایک تھا، اور وہ تھا پوٹیکل ایکٹوزم ۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہ نماؤں کا ذہن اسی فکری تسلسل کے تحت بنا، چناں چہ جب موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لیے مسائل پیدا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues