Al-Risala · October 2007 · page 39

بدلتی ہوئی دنیا میں مسلمانوں کا لائحہ عمل

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۹

ہوئے تو انھوں نے اپنے متاثر ذہن (conditioned mind) کے تحت، فوراً پوٹیکل ایکٹوزم کا طریقہ اختیار کر لیا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں بصیرت زمانہ کی ضرورت تھی۔ ہمارے رہنماؤں کو جاننا چاہیے تھا کہ اب پوٹیکل ایکٹڑزم کا دور ختم ہو گیا۔ اب مکمل معنوں میں پیس فل ایکٹڑزم کا زمانہ آ چکا ہے۔ اب ایسے مواقع پیدا ہو چکے ہیں کہ پر امن طریقہ کار کے ذریعے وہ سب کچھ مزید اضافے کے ساتھ حاصل کیا جا سکتا ہے جس کی امید پہلے صرف سیاسی جدوجہد سے کی جا سکتی تھی۔

موجودہ زمانے میں جو تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں، اُس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اُس نے مواقع (opportunities) کو ہر ایک کے لیے یکساں طور پر کھول دیا ہے۔ قدیم زمانے میں مواقع کار صرف اونچے طبقے کے کچھ لوگوں کو حاصل ہوتے تھے، اب مواقع کار عام انسانوں کی دست رس تک پہنچ گئے ہیں۔ پچھلا زمانہ ہر اعتبار سے محدودیت کا زمانہ تھا، اب جدید اسباب نے تمام حد بندیاں توڑ دی ہیں۔ اب ہر آدمی ہر کام کرنے کی پوزیشن میں ہو گیا ہے۔ پہلے زمانے میں علم کے نام سے آدمی بہت کم چیزوں کو جانتا تھا، اب علمی انفجار (knowledge explosion) کا زمانہ ہے۔ پہلے زمانے میں سیاسی طاقت سب سے بڑی طاقت سمجھی جاتی تھی، اب تعمیری اداروں اور غیر سیاسی تنظیموں نے سب سے بڑی طاقت کا درجہ حاصل کر لیا ہے، وغیرہ۔

موجودہ زمانے میں سیکولر ازم نے حکومتوں کو پابند کر دیا ہے کہ وہ لوگوں کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی اختیار کریں۔ اب دنیا میں جمہوریت کا زمانہ ہے، جو عوام کی سیاسی حصے داری (power sharing) پر مبنی ہے۔ پہلے اقتصادیات کا تعلق صرف زراعت سے تھا، اب جدید صنعت نے اقتصادیات کو ہر ایک کی دست رس تک پہنچا دیا ہے۔ پہلے مذہبی جبر کا زمانہ تھا، اب دنیا میں مکمل طور پر مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔ پہلے کوئی بڑا کام صرف بادشاہ کر سکتا تھا، اب اداروں (institutions) اور غیر سیاسی تنظیموں کے ذریعے ہر کام کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ پہلے زمانے میں صرف پوٹیکل ایمپائر بن سکتا تھا، اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ غیر سیاسی سطح پر عالمی دعوہ ایمپائر بنایا جا سکے۔ پہلے یہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues

Printed page