بدلتی ہوئی دنیا میں مسلمانوں کا لائحہ عمل
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴۰
سمجھا جاتا تھا کہ صرف تلوار میں طاقت ہے، اب پر امن ذرائع کا دائرہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ آج تقریباً ہر چیز پر امن ذرائع سے حاصل کی جاسکتی ہے، وغیرہ۔
ان حالات میں متشددانہ طریقہ کار یا لڑائی کا طریقہ اختیار کرنا، ایک قسم کا خلاف زمانہ عمل (anachronism) بن چکا ہے۔ جدید اصولوں کے مطابق، آدمی اگر تشدد نہ کرے تو وہ ہر کام کے لیے آزاد ہے۔ ایسی حالت میں اب تشدد کا طریقہ اختیار کرنا، ایک قسم کی دیوانگی ہے۔ کیوں کہ تشدد کا طریقہ اختیار کرتے ہی آدمی غیر ضروری طور پر اپنے آپ کو محروم بنا لیتا ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ وہ جدید مواقع کار سے فائدہ اٹھائے اور اپنے مستقبل کی عظیم تعمیر کرے۔
یہاں یہ سوال ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے یہ تباہ کن طریقہ کیوں اختیار کیا کہ انھوں نے سیاسی غلبے کو اپنا نشانہ بنا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت جلد انھوں نے جہاد کے نام سے متشددانہ طریقہ کار کو اختیار کر لیا اور آخر کار استشہاد (طلب شہادت) کے نام پر خود کش بم باری کی تباہ کن حد تک پہنچ گئے۔
اس بھیانک غلطی کا سبب موجودہ زمانے میں پیش کی جانے والی اسلام کی سیاسی تعبیر تھی۔ اسلام کی سیاسی تعبیر بلاشبہ ایک بے بنیاد تعبیر تھی، لیکن موجودہ سیاسی حالات نے اس تعبیر کو موافق فضا دے دی۔ اس بنا پر بہت سے لوگ، خاص طور پر نوجوان طبقہ، اس مغالطہ آمیز سیاسی تعبیر کے زیر اثر آ گیا اور اسلام کی عالمی حکومت قائم کرنے کے نام پر ایک پر شور سیاسی تخریب کا عمل جاری کر دیا۔ موجودہ زمانے میں جو انقلاب آیا، وہ عین خدا کی منشا کے مطابق تھا۔ وہ اس لیے تھا کہ اہل اسلام، سیاسی نزاع اور متشددانہ ٹکراؤ سے بچ کر اسلامی دعوت کا ایک عالمی ایمپائر بنا سکیں۔ موجودہ زمانے میں ایسا کرنا عین ممکن بن چکا تھا، لیکن ٹکراؤ کی متشددانہ سیاست نے سارے امکانات کو تباہ کر دیا۔
سیاسی اقتدار کی اصطلاحوں میں سوچنے کے بہت نقصانات ہوئے۔ اُن میں سے ایک نقصان یہ تھا کہ موجودہ زمانے کے کئی امکانات کو مسلم رہ نما بالکل سمجھ نہ سکے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں ایک جدید
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues