بدلتی ہوئی دنیا میں مسلمانوں کا لائحہ عمل
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴۱
ظاہر وہ پیدا ہوا، جس کو گلوبل ولیج اور گلوبلائزیشن کہا جاتا ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک عظیم نعمت تھی۔ خصوصاً اسلامی دعوت کے لیے اُس نے عالمی مواقع کھول دیے، مگر بگڑے ہوئے ذہن کی بنا پر مسلم رہ نما اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے اور غیر ضروری طور پر اُس کے مخالف بن گئے۔
اسی منفی ذہن کی بنا پر موجودہ زمانے کے مسلم رہ نماؤں نے جگہ جگہ علحدگی پسندی اور سپریشن کی تحریک چلادی۔ آج کا زمانہ یونی ورسلائزیشن کا زمانہ تھا، مگر انھوں نے مسلمانوں کو محدودیت کے خول میں بند کرنے کی ناقابل فہم غلطی کا ارتکاب کیا۔ یہ اتنی بڑی غلطی تھی کہ اس کے بعد ان رہ نماؤں کا کوئی بھی کارنامہ اس غلطی کی تلافی نہ کر سکا۔
خلاصہ یہ کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لیے کسی مؤثر ملی عمل کا نقطۂ آغاز یہ ہے کہ وہ یہ اعتراف کریں کہ انھوں نے ماضی میں غلط نشانہ بنایا۔ اس غلطی کا کھلا اعتراف کرنے کے بعد دوسرا کام یہ ہے کہ مسلمان موجودہ سیاسی ٹکراؤ اور جہاد کے نام پر مسلح عمل کو مکمل طور پر ترک کر دیں۔ اُس کے بعد مسلمانوں کے لیے عمل کا جو نشانہ بنے گا، وہ دو نکاتی فارمولے پر مشتمل ہوگا— اپنی نئی نسلوں کو اعلیٰ تعلیم میں آگے بڑھانا، اور دعوۃ ورک کو اپنا نشانہ قرار دینا۔ اس کے سوا کوئی اور لائحۂ عمل، مسلمانوں کو اعلیٰ کامیابی تک پہنچانے والا نہیں۔
الـرسالہ کے قارئین سے گزارش ہے کہ اسلام کے پیغام کو بے آمیز اور قابل فہم صورت میں ہر خاص و عام تک پہنچانے کی غرض سے اپنے اپنے علاقوں میں دار المطالعہ (study centre) قائم کریں۔ اس مقصد کے لیے الرسالہ اور مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتابیں (اردو اور انگریزی) نصف قیمت پر فراہم کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں خط و کتابت کا پتہ یہ ہے:
Al-Risala Monthly 1 Nizamuddin West Market, New Delhi-110013 Tel. 24355454, 24355729, email: info@goodwordbooks.com www.alrisala.org
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues