Al-Risala · October 2007 · page 42

نشانیوں سے سبق نہ لینا

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴۲

نشانیوں سے سبق نہ لینا

قرآن کی سورہ نمبر بارہ کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے:” اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں جن پر اُن کا گزر ہوتا رہتا ہے اور وہ اُن پر دھیان نہیں کرتے۔ “ (یوسف: 105) اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خدا کی طرف سے مسلسل انسانی تاریخ میں ایسی نشانیاں ظاہر کی جارہی ہیں جو انسان کو اپنی محدودیت یاد دلائیں اوراُس کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کریں کہ وہ خدا کی رہ نمائی کے بغیر اپنے لیے کامیاب زندگی کی تعمیر نہیں کرسکتا، لیکن انسان غفلت کا شکار ہوکر ان نشانیوں سے سبق نہیں لیتا اور اپنی محرومی کا خاتمہ نہیں کرپاتا۔

پچھلے پانچ ہزار سال سے دنیا کے تمام بڑے بڑے دماغ اِس میں مشغول تھے کہ وہ فلسفیانہ غوروفکر کے ذریعے سچائی کو دریافت کرلیں، لیکن لمبی کوشش کے بعد صرف یہ معلوم ہوا کہ فلسفے کا طریقہ کسی یقینی منزل تک پہنچانے کے لیے سراسر ناکافی ہے۔

جدید سائنس کے ظہور کے بعد انسان نے یہ سمجھا کہ سائنسی میتھڈ کے ذریعے وہ سچائی کو دریافت کرسکتا ہے، لیکن آخر کار صرف یہ معلوم ہوا کہ سائنسی میتھڈ آدمی کو صرف چیزوں کے علم (knowledge of things) تک پہنچا سکتا ہے، وہ آدمی کو سچائی کے علم (knowledge of truths) تک پہنچانے والا نہیں۔ ہزاروں سال سے انسان یہ سمجھتا تھا کہ روحانی طریقوں کے استعمال سے وہ سچائی تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ فرض کرلیا گیا تھا کہ انسان کا دل تمام حقیقتوں کا خزانہ ہے۔ دل میں اپنے دھیان کو مرتکز کرکے سچائی کی دریافت کی جاسکتی ہے، لیکن آخر کار یہ ثابت ہوا کہ دل صرف گردشِ خون کا ذریعہ ہے، وہ حقائق و معارف کا خزانہ نہیں۔

اسی طرح جدید تہذیب کی ترقیوں کو دیکھ کر یہ امید قائم کرلی گئی تھی کہ تہذیب کا سفر آخر کار انسان کو اس کی مطلوب دنیا تک پہنچادے گا، لیکن حال میں گلوبل وارمنگ(Global Warming) کا مسئلہ ظاہر ہوا اور یہ معلوم ہوا کہ موجودہ دنیا اب اپنے خاتمے کے قریب پہنچ گئی ہے، یہاں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues

Printed page