Al-Risala · October 2007 · page 43

نشانیوں سے سبق نہ لینا

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴۳

مطلوبہ تہذیب کا قیام سرے سے ممکن ہی نہیں۔

اس قسم کی نشانیاں، فطرت میں اور تاریخ میں، مسلسل ظاہر ہو رہی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خالق نے موجودہ دنیا کے لیے جو مدت مقرر کی تھی، وہ مدت اب تمام ہو چکی ہے۔ اور وہ وقت آ گیا ہے کہ موجودہ دنیا کو ختم کر دیا جائے، تاکہ اس کے بجائے اگلی دنیا (world hereafter) شروع ہو سکے۔ قرآن کے یہ الفاظ شاید اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ـــــ ’’جس دن ہم آسمان کو لپیٹ دیں گے جس طرح طومار میں کاغذ لپیٹ دیے جاتے ہیں۔ جس طرح ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی، اُسی طرح ہم پھر اُس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے اور ہم اُس کو کر کے رہیں گے‘‘ (الأنبياء: 104)

اب آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے جب کہ انسان بیدار ہو۔ وہ فطرت میں اور تاریخ میں ظاہر ہونے والی نشانیوں سے سبق لے اور اپنی زندگی کی اس طرح منصوبہ بندی کرے جو اگلے مرحلۂ حیات (post-death period) میں اُس کے کام آ سکے۔ جو آدمی اس موقع کو کھو دے، اُس کو جاننا چاہیے کہ اُس کے لیے دوبارہ کوئی موقع آنے والا نہیں۔

انسان کو اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے صرف ایک ہی چانس دیا گیا ہے، یہ آدمی کے اوپر ہے کہ وہ اس کو استعمال کرتا ہے، یا اس کو ہمیشہ کے لیے کھودیتا ہے۔ جو لوگ اس چانس کو استعمال کر سکیں، ان کے لیے ابدی جنت ہے اور جو لوگ اس چانس کو استعمال کرنے میں ناکام رہیں، ان کا انجام بائبل کے الفاظ میں یہ ہے ـــــ ایسے لوگ آگ کی بھٹی میں ڈال دیے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے ابدتک رونا اور دانت پیسنا ہوگا:

And will cast them into the furnace of fire. There will be wailing and gnashing of teeth. (Matthew 13: 42)

‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues

Printed page