Al-Risala · October 2007 · page 44

مسلم مسلک کیا ہے

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴۴

مسلم مسلک کیا ہے

مسلم مسلک کیا ہے ۔ اس سوال کے جواب میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمان اپنی دشمن قوموں کی سازش کا شکار ہیں، یہ اغیار کی سازش ہے جس نے مسلمانوں کو موجودہ زمانے میں مسائل سے دوچار کر رکھا ہے ۔ یہ جواب، قرآن کی صراحت کے مطابق، یقینی طور پر بے بنیاد ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 3 میں ارشاد ہوا ہے کہ: وإن تصبروا وتتقوا لا يضركم كيدهم شيئًا (آل عمران: 120) یعنی تم اگر صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو دشمن کی سازش تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔ صاحب مدارک التنزیل نے اس آیت کی تشریح میں لکھا ہے: هذا تعليم من الله وإرشاد إلى أن يُستعان على كيد العدو بالصبر والتقوى۔ (یہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم ہے اور اس کی ہدایت ہے کہ دشمن کی سازش کے مقابلے میں صبر اور تقویٰ سے مدد حاصل کی جائے) اس پر آپ غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کے لیے جو مسئلہ ہے، وہ سازش کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ صبر اور تقویٰ کی غیر موجودگی ہے۔ مذکورہ سوال کا یہ جواب قرآن کی براہ راست نص سے ثابت ہے، اس لیے اُس کے برحق ہونے پر کوئی شک نہیں کیا جاسکتا۔ اس آیت میں مسئلہ سازش کے حل کے طور پر دو لفظ کا ذکر آیا ہے— صبر اور تقویٰ۔ صبر کا مطلب دراصل سیلف کنٹرول (self-control) ہے، یعنی پیش آمدہ صورت حال میں ردِعمل سے بچ کر اپنے اقدام کی مثبت منصوبہ بندی کرنا۔ کوئی صورت حال پیش آئے تو جذباتی تاثر کے تحت، جوابی کارروائی نہ کرنا بلکہ معاملے کے تمام مالہ وماعلیہ (موافق اور غیر موافق پہلو) کا اندازہ کر کے سوچا سمجھا اقدام کرنا۔

قرآن کی مذکورہ آیت میں دوسرا لفظ جو استعمال ہوا ہے، وہ تقویٰ ہے۔ یہاں تقویٰ کا مطلب خود قرآن کی ایک اور آیت سے واضح ہو رہا ہے۔ دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ولا يجرمنكم شنان قوم علی أن لا تعدلوا، اعدلوا هو أقرب للتقوى (المائدة: 8) اس آیت سے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues

Printed page