مسلم مسلک کیا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴۵
معلوم ہوتا ہے کہ تقویٰ کا مطلب ہے— دشمنی کی حالت پیدا ہونے کے باوجود عدل پر قائم رہنا، اشتعال کی حالت میں بھی انصاف کی روش پر برقرار رہنا۔
قرآن کی اس آیت کی روشنی میں موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے کیس پر غور کیجیے۔ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان کسی بھی ملک میں اس قرآنی معاورر پر پورے نہیں اترتے۔ ہر جگہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ مخالفِ مزاج باتوں پر مشتعل ہو کر عاجلانہ اقدام کر بیٹھتے ہیں۔ وہ صرف انتقام کا فارمولا جانتے ہیں، عدل اور انصاف کا فارمولا انھیں معلوم ہی نہیں۔ اسیسی حالت میں مسلمانوں کے مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنی پالیسیوں کے غلط ہونے کا اعتراف کرنا۔ دوسروں کو بُرا بتانے کے بجائے، خود اپنی کمزوریوں کو دریافت کرنا۔ اپنے سارے معاملے کا ری ایس منٹ (reassessment) کرنا، اور پھر صبر اور تقویٰ کے اصول کی روشنی میں اپنے عمل کا نیا منصوبہ بنانا۔
میرے نزدیک، موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو تین نکاتی فارمولے پر عمل کرنا چاہیے۔ اس کے سوا اُن کے لیے کوئی بھی دوسرا لائحۂ عمل مفید نہیں ہو سکتا۔ وہ تین نکاتی فارمولا یہ ہے: 1- دوسروں کے خلاف منفی تقریر یا تحریر کو مکمل طور پر ترک کر دینا۔
2- پوری نسل کو تعلیم یافتہ بنانے کی کوشش کرنا۔
3- غیر مسلموں میں عالمی پیمانے پر اسلام کا مثبت تعارف۔
کوئی بھی بڑا کام صرف مثبت ذہن کے لوگ انجام دیتے ہیں۔ نکتۂ اول کی اہمیت یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے اندر یہی مثبت ذہن پیدا کرتا ہے۔ موجودہ حالت میں مسلمانوں کی پہلی ضرورت یہ ہے کہ وہ تمام انسانیت کے لیے، دوست اور دشمن کی تفریق کے بغیر، خیر خواہ بن جائیں۔ ان کا نظریہ صرف اکرامِ مسلم نہ ہو، بلکہ ان کا نظریہ وسیع تر معنوں میں اکرامِ انسان ہو۔ ان کا برتاؤ ہر ایک کے لیے انسان فرینڈلی برتاؤ (insan-friendly behaviour) بن جائے، نہ کہ صرف مسلم فرینڈلی برتاؤ۔ حدیث میں مومن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ: أن يكون بصيراً بزمانه، یعنی بصیرتِ زمانہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2007 All issues