Al-Risala · November 2007 · page 10

اسماء حسنی: خدا کا تصوراتی ماڈل

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۰

کی حیثیت صرف ایک علامتی ہستی (symbolic God) کی ہے، نہ کہ ایک حقیقی اور زندہ خدا کی۔ مثال کے طور پر یہودی مذہب کو لیجیے۔ یہودی اعتقادیات کا ماخذ بائبل (عہد نامہ قدیم) ہے۔ آپ اِس کتاب کا مطالعہ کریں تو اُس میں اسماء حسنیٰ کی نوعیت کا خداوندی تعارف موجود نہیں۔ ایک جگہ خدا کو بتاتے ہوئے، اُس کے بارے میں ’’میں جو ہوں، سو میں ہوں‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سلسلے میں بائبل کے اصل الفاظ اس طرح ہیں:

تب موسیٰ نے خدا سے کہا: جب میں بنی اسرائیل کے پاس جا کر اُن کو کہوں کہ تمھارے باپ دادا کے خدا نے مجھے تمھارے پاس بھیجا ہے اور وہ مجھے کہیں کہ اُس کا نام کیا ہے، تو میں اُن کو کیا بتاؤں۔ خدا نے موسیٰ سے کہا: میں جو ہوں، سو میں ہوں۔ سو تو، بنی اسرائیل سے یوں کہنا کہ میں جو ہوں نے مجھے تمھارے پاس بھیجا ہے (خروج 13, 14 : 3)

اسی طرح مسیحیت کا مذہبی ماخذ وہ کتاب ہے جس کو نیا عہد نامہ (بائبل) کہا جاتا ہے۔ اس لیے عہد نامے میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح جب صلیب پر چڑھائے گیے تو اُن کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: الوہی، الوہی، لما شفقتی، یعنی اے میرے خدا، اے میرے خدا، تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا: My God, my God, why have You forsaken me. (Mark, 15:34)

مسیحی چرچ کے عقیدے کے مطابق، حضرت مسیح کا سولی پر چڑھ کر مصلوب ہونا کوئی اتفاقی حادثہ نہ تھا، وہ مسیحی چرچ کے عقیدے کے مطابق، ایک خدائی منصوبے کے تحت پیش آیا۔ کفارۂ مسیح کے عقیدہ (atonement) کے مطابق، خدا نے حضرت مسیح کو اسی خاص مقصد کے لیے دنیا میں بھیجا تھا کہ وہ انسانی گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے سولی پر چڑھ جائیں، اور انھوں نے بخوشی ایسا کیا۔ مسیحی چرچ کے مبینہ عقیدے کے مطابق، خدا، تثلیث کا ایک حصہ ہے۔ مسیحی عقیدے کو ٹری نٹی (trinity) کے لفظ میں بیان کیا جاتا ہے، یعنی تین میں ایک اور ایک میں تین۔ اس عقیدے کے مطابق، حضرت مسیح عام انسان نہیں تھے، بلکہ وہ خدا کا ایک حصہ تھے۔

ایسی حالت میں حضرت مسیح کا مذکورہ واقعہ، انسان کے لیے خدا کے معاملے میں یقین کا

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page