Al-Risala · November 2007 · page 11

اسماء حسنی: خدا کا تصوراتی ماڈل

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۱

سرچشمہ نہیں بن سکتا۔ اِس واقعے میں خدا خود بے بس ہو کر فریاد کر رہا ہے۔ وہ خود اپنے آپ کو ایک متروک وجود سمجھتا ہے۔ اُس کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ اپنے آپ کو وقت کے حکم رانوں سے محفوظ رکھ سکے۔ ایسا خدا، دوسرے انسانوں کے لیے کس طرح اعتماد کا سرچشمہ بن سکتا ہے۔ انسان کو ایک ایسا خدا چاہیے جو اُس کے لیے اعتماد کا ذریعہ بن سکے، مگر مسیحیت، انسان کو ایک ایسے خدا کا تصور دیتی ہے جس میں خدا خود ہی بے بس دکھائی دے رہا ہے۔

اس کے بعد اِن مذاہب کو لیجیے جن کو آرین مذاہب کہا جاتا ہے، یعنی ہندوازم، وغیرہ۔ ان مذاہب میں پرسنل گاڈ (personal God) کا تصور موجود نہیں۔ ان مذاہب میں اگرچہ خدا کا لفظ استعمال ہوتا ہے، مگر وہ صرف ایک علامتی لفظ ہوتا ہے، کیوں کہ ان مذاہب میں عقیدۂ خدا کے تشخص کے لیے کسی مستقل وجود کا کوئی تصور نہیں۔

جیسا کہ معلوم ہے، آرین مذاہب میں خدا کو نراکار (formless God) مانا جاتا ہے۔ اُن کے عقیدے کے مطابق، خدا ’نرگن‘ ہے، یعنی اُس کی کوئی صفت نہیں۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ خدا کو ایک متعین ہستی کے طور پر اپنے ذہن میں لائے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو مذہب میں خدا کی کوئی عبادت گاہ نہیں ہوتی۔ اُن کے یہاں بتوں کی پرستش ہوتی ہے یا گرؤوں کی۔ کیوں کہ بت یا گرو کا تشخص اُن کو ممکن دکھائی دیتا ہے، لیکن خدا کا تشخص اُن کے لیے قابلِ تصور نہیں ہوتا۔ عقیدۂ خدا اور اسماء حسنیٰ خدا کا عقیدہ انسان کے لاشعور میں پیوست ہے۔ انسان اپنے فطری تقاضے کے تحت، اس لاشعور کو شعور میں لانا چاہتا ہے۔ اسماء حسنیٰ کا تصور انسان کی اسی فطری ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ اسماء حسنیٰ کی حیثیت ایک فکری ماڈل کی ہے۔ یہ انسان کے اپنے فریم ورک کے مطابق، خدا کی ہستی کو اُس کے لیے قابلِ فہم بناتا ہے۔

مختلف مذاہب میں خدا کی ہستی کے مختلف ماڈل بتائے گئے ہیں۔ ان میں سے دو ماڈل زیادہ معروف ہیں— آکار ماڈل اور نراکار ماڈل، مگر یہ دونوں انسانی فریم ورک کے اعتبار سے انسان کے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page