اسماء حسنی: تلاش فطرت کا جواب
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۲
لیے قابل فہم ماڈل نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ماڈل صرف کاغذ میں یا لفظوں میں پائے جاتے ہیں، وہ حقیقی معنوں میں انسانی شعور کا حصہ نہ بن سکے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ دونوں ماڈل انسان کی نسبت سے ناقص ماڈل ہیں۔ آر ماڈل، دوسرے لفظوں میں بُت کا ماڈل، ایک ایسے خدا کا تصور دیتا ہے جس کا بظاہر ایک فارم تو ہے، مگر وہ مکمل طور پر بے صفاتی (powerless) ہے۔ دوسری طرف، نزا کار ماڈل بظاہر ایک طاقت ہے، مگر یہ طاقت، کشش ارض (gravity) کی طرح بے صفاتی (attributeless) ہے۔ اس طرح یہ دونوں ہی ماڈل، انسان کے معلوم فریم ورک کی نسبت سے مبہم ماڈل ہیں، وہ انسانی فطرت کا جواب فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ اسماء حسنی دراصل اسی خلا کو پر کرتے ہیں۔
اسماء حسنی: تلاش فطرت کا جواب
اسماء حسنی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے یہ تمام نام انسان کی نسبت سے خدا کا تعارف ہیں۔ انسان فطری طور پر اپنے سے ایک برتر ہستی کو چاہتا ہے۔ نفسیاتی مطالعے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر ایک متلاشی حیوان (seeking animal) ہے۔ انسان اپنے پورے وجود کے اعتبار سے ایک ذاتِ اعلیٰ کا متلاشی ہے، ایک ایسی اعلیٰ اور برتر ذات جو اس کی کمیوں کی تلافی کرے، جو اس کے جذبات اور احساسات کا مرکز و محور بن سکے۔
اسماء حسنی دراصل اسی سوال کا جواب ہیں۔ اسماء حسنی کا مطلب ہے، صفاتِ حسنیٰ۔ خدا کی یہ صفات جو اسماء حسنی کے ذریعے بتائی گئی ہیں، وہ علی الاطلاق حیثیت سے خدائے برتر کا تعارف نہیں ہیں، بلکہ وہ انسان کی نسبت سے اُس کے مطلوب خدا کا تعارف ہیں۔ چناں چہ جب کوئی انسان اِن اسماء حسنی کو اُن کی پوری معنویت کے ساتھ جان لیتا ہے تو اچانک اُس کو دریافت ہوتا ہے کہ وہ جس خدائے برتر کی تلاش میں تھا، اُس کا تعارف اُس کو اسماء حسنی کی صورت میں مل گیا۔ مثال کے طور پر اسماء حسنیٰ میں سے ایک نام 'الغنیٰ‘ ہے۔ غنی کے لفظی معنی بے نیاز کے ہیں، یعنی وہ ہستی جس کو دوسروں سے کچھ لینے کی ضرورت نہ ہو، لیکن اس کو یہ طاقت ہو کہ وہ دوسروں کی تمام
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues