اسماء حسنی: تلاش فطرت کا جواب
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۱۳
حاجتوں کو پورا کر سکے۔ یہ احساس ہر انسان کے اندر، شعوری یا غیر شعوری طور پر، چھپا ہوا ہے۔ اس کے بعد جب انسان اسماءِ حسنیٰ کے ذریعے یہ جانتا ہے کہ خدا کی ایک صفت اس کا غنی ہونا ہے، تو فوراً ہی وہ جان لیتا ہے کہ وہ جس خدا کی تلاش میں تھا، اُس کو اُس نے یہاں دریافت کر لیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی اس آیت میں بتائی گئی ہے: یايُّها الناس أنتم الفقراء إلى الله، والله هو الغنيُّ الحميد۔ یعنی اے لوگو، تم اللہ کے محتاج ہو، اور اللہ تو بے نیاز ہے، تعریف والا ہے (فاطر: 15)۔ اسی طرح ایک اور جذبہ، جو سارے انسانوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر پایا جاتا ہے، وہ یہ کہ ہر انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی مخلوق ہے جو رزق کی محتاج ہے۔ رزق سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں، جن پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ انسان ہر لمحہ یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ بہت سی چیزوں کا ضرورت مند ہے—پانی غذا، ہوا، آکسیجن اور روشنی، وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں نہایت متناسب انداز میں اور نہایت وافر طور پر دنیا میں موجود ہیں۔
انسان فطری طور پر یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کون ہے جو ان تمام ضروری چیزوں کو اُس کے لیے مہیا کر رہا ہے، بغیر اس کے کہ وہ انسان سے اُس کی کوئی قیمت طلب کر رہا ہو۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ اپنے اس محسنِ اعلیٰ کے احسانات کا اعتراف کرے، وہ کامل اعتراف اور شکر کے جذبے سے اپنے آپ کو اُس کے آگے بچھا دے۔ یہاں اسماءِ حسنیٰ میں اُس کو رہنمائی ملتی ہے۔
خدا کے ان ناموں میں سے ایک نام ’الرَّزّاق‘ ہے ۔ انسان جب خدا کو رُزاق کی حیثیت سے دریافت کرتا ہے تو اچانک اُس کو محسوس ہوتا ہے کہ اُس نے اپنی طلب کا جواب پا لیا۔ یہی وہ حقیقت ہے، جس کو قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: إنَّ الله هو الرَّزّاق ذو القوَّةِ المتين۔ یعنی بے شک، اللہ ہی رزق دینے والا، زور آور، زبردست ہے (الذّٰریات: 58)
اسی طرح ہر انسان کی ایک اور ضرورت ہے۔ موجودہ دنیا جس میں انسان کو زندگی گزارنا ہے، وہ اس انداز سے بنی ہے کہ کوئی انسان اُس کے اندر معیاری انداز میں نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح انسان کے اندر بہت سی خواہشیں اور تمنائیں ہیں۔ ان خواہشوں اور تمناؤں کے زیر اثر ہر آدمی بار بار غلطیاں
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues