Al-Risala · November 2007 · page 22

دعا کیا ہے

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۲

اکثر لوگ اسم اعظم کو اسی قسم کا ایک طلسماتی لفظ سمجھتے ہیں، مگر اس قسم کی سوچ بالکل غلط ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسم اعظم ڈکشنری کے کسی لفظ کا نام نہیں، وہ انسان کی اپنی داخلی کیفیت کا نام ہے۔ جب بھی کوئی سچا بندہ، اعلی قلبی کیفیات کے ساتھ دعا کرتا ہے تو اُس کو فرشتوں کی مدد حاصل ہو جاتی ہے۔ اُس وقت اُس کے اندر سے مخصوص قسم کے ربانی الفاظ نکلنے لگتے ہیں، اِسی کا نام اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنا ہے۔ اِس قسم کی دعا، خدائی الہام کے تحت ہوتی ہے اور وجودِ اِعخاندائی الہام کے تحت انسان کے دل سے نکلے، اٗس کا معاملہ وہی ہوتا ہے جو ایک فارسی شاعر نے اِن الفاظ میں نظم کیا ہے: اجابت از در حق بہر استقبال می آید مقبول دعا حقیقی دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے، نہ کہ محض زبانی الفاظ سے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا سے مانگنے والا کبھی محروم نہیں ہوتا۔ مگر مانگنا صرف کچھ لفظوں کو دہرانے کا نام نہیں۔ مانگنا وہی مانگنا ہے جس میں آدمی کی پوری ہستی شامل ہوگئی ہو۔ ایک شخص زبان سے کہہ رہا ہو: خدایا! مجھے اپنا بنالے، مگر عملاً وہ اپنی ذات کا بنا رہا ہے، تو یہ اِس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے مانگا ہی نہیں، اس کو جو چیز ملی ہوئی ہے، وہی دراصل اس نے خدا سے مانگی تھی، خواہ زبان سے اس نے جو لفظ بھی ادا کئے ہوں۔ ایک بچہ اپنی ماں سے روٹی مانگے تو یہ ممکن نہیں کہ ماں اس کے ہاتھ میں انگارہ رکھ دے۔ خدا اپنے بندوں پر تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ خدا سے خشیت مانگیں اور وہ آپ کو قساوت دے دے، آپ خدا کی یاد مانگیں اور وہ آپ کو خدا فراموشی میں مبتلا کر دے، آپ آخرت کی تڑپ مانگیں اور خدا آپ کو دنیا کی محبت میں ڈال دے، آپ کیفیت سے بھری ہوئی دین داری مانگیں اور خدا آپ کو بے روح دین داری میں پڑا رہنے دے۔ آپ حق پرستی مانگیں اور خدا آپ کو گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکتا چھوڑ دے۔

آپ کی زندگی میں آپ کی مطلوب چیز کا نہ ہونا، اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے ابھی تک اس کو مانگا ہی نہیں۔ اگر آپ کو دودھ خریدنا ہو اور آپ چھانی لے کر بازار جائیں تو پیسے خرچ کرنے کے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page