دعا کی طاقت
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۳
بعد بھی آپ خالی ہاتھ واپس آئیں گے۔ اسی طرح اگر آپ زبان سے دعا کے کلمات دہرارہے ہوں، مگر آپ کی اصل ہستی کسی دوسری چیز کی طرف متوجہ ہو تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ نہ آپ نے مانگا تھا اور نہ آپ کو ملا، جو مانگے وہ کبھی پائے بغیر نہیں رہتا۔ یہ مالک کائنات کی غیرت کے خلاف ہے کہ وہ کسی بندے کو اس حال میں رہنے دے کہ قیامت میں جب خدا سے اس کا سامنا ہو تو وہ اپنے رب کو حسرت کی نظر سے دیکھے۔ وہ کہے کہ خدایا، میں نے تجھ سے ایک چیز مانگی تھی مگر تو نے مجھے وہ چیز نہ دی۔ بخدا، یہ ناممکن ہے، یہ ناممکن ہے، یہ ناممکن ہے۔ کائنات کا مالک تو ہر صبح وشام اپنے تمام خزانوں کے ساتھ آپ کے قریب آکر آواز دیتا ہے—”کون ہے جو مجھ سے مانگے، تا کہ میں اسے دوں‘‘، مگر جنھیں لینا ہے وہ اس سے غافل بنے ہوئے ہوں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور۔
دعا کی طاقت
حدیث میں آیا ہے کہ: لا يرد القضاء إلا الدعاء (الترمذی، کتاب القدر) یعنی قضا اور قدر کے فیصلے کو صرف دعا بدل سکتی ہے۔ خدا نے اس دنیا کا نظام اسباب وعلل کی بنیاد پر قائم کیا ہے، اور پھر انسان کو مکمل آزادی دے دی ہے۔ اب انسان اپنی آزادی کے مطابق عمل کرتا ہے اور خدا کے قائم کردہ نظام اسباب وعلل سے مطابقت یا مخالفت کی بنیاد پر اس کا اچھا یا برا نتیجہ اس کے سامنے آتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نظام بالکل حتمی ہے۔ کوئی آدمی خواہ مخلص ہو یا غیر مخلص، اُس کو بہر حال اس نظام کو بھگتنا ہے۔ کسی بھی شخص کے لیے اس نظام کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔
اس معاملے میں صرف ایک استثنا ہے اور وہ دعا ہے۔ کوئی آدمی جب سچی دعا کرتا ہے اور اُس وقت اگر خدا اس کی دعا قبول کر لیتا ہے تو وہ اسباب کے نظام میں مداخلت کر کے اس کا راستہ ہموار کر دیتا ہے۔ یہی مطلب ہے اس بات کا کہ دعا، قضا اور قدر کو بدل دیتی ہے۔
لیکن دعا الفاظ کی تکرار کا نام نہیں ہے، حتیٰ کہ قرآنی دعائیں یا ماثور دعائیں بھی اگر صرف رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار ہوں تو وہ بھی مؤثر نہیں ہو سکتیں۔ نظامِ قضا کو بدلنے کے لیے وہ دعا درکار ہے جو دل کو پھاڑ کر کی جاتی ہے، جو دل کی پھٹن کی آواز ہوتی ہے، جس میں آدمی کا پورا وجود شامل ہو جاتا ہے،
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues