دعا کی طاقت
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۴
جوانی شخصیت میں ایک بھونچال کے بعد ظہور میں آتی ہے۔
اس قسم کی دعا کی قبولیت کی ایک اور شرط یہ ہے کہ دعا کرنے والے کا ذہنی تزکیہ اتنا زیادہ ہو چکا ہو کہ اس کی سوچ خدا کی سوچ بن جائے۔ ایسا آدمی وہی دعا کرے گا جو خدا کے نزدیک قابلِ قبول ہوتی ہے۔ اس کی زبان سے ایسی دعا نہیں نکلے گی جو خدا کی سنت کے مطابق ،قابل قبول ہی نہیں۔ پیغمبر کی دعا کی مثال خدا کے تمام پیغمبروں نے اسمِ اعظم کے ساتھ دعائیں کی ہیں۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر کے موقع پر میدانِ جنگ کی طرف نگاہ ڈالی تو آپ کو نظر آیا کہ طاقت ور مشرک فوج کے مقابلے میں ، مؤحدین کی ایک کم زور فوج کھڑی ہوئی ہے، جو تعداد میں بھی کم ہے اور سامانِ حرب میں بھی کم۔ اس نابرابری کو دیکھ کر آپ کے جذبات میں ایک ہیجان پیدا ہوا۔ آپ کمالِ عجز کے ساتھ خدا کے سامنے زمین پر سجدے میں گر پڑے۔ اُس وقت آپ کی زبان سے دعا کرتے ہوئے یہ الفاظ نکلے: اللهم، إن تهلك هذه العصابة من أهل الإسلام، لا تعبد فى الأرض أبداً (مسند احمد، جلدا، صفحه 30)۔ یعنی اے اللہ، اگر تو اہلِ اسلام کے اس گروہ کو آج ہلاک کردے تو اس کے بعد زمین پر کبھی تیری عبادت نہ ہوگی۔ یہ دعا بھی اپنے ربانی جذبات کے اعتبار سے اسمِ اعظم کے ساتھ کی جانے والی دعا تھی، جو کامل طور پر قبول ہوئی ۔ کم زور گروہ نے خدا کی مدد سے طاقت ور گروہ کو مکمل شکست دے دی۔
اسمِ اعظم کے ساتھ دعا، صرف پیغمبروں کے ساتھ خاص نہیں، اس دعا کی توفیق ہر بندۂ خدا کو ملتی ہے۔ جو شخص بھی ایمان اور اخلاص کے اعلیٰ ربانی جذبات کے ساتھ خدا کی طرف رجوع ہو، وہ خدا کی مدد سے اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنے کی توفیق پاتا ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ ایسی دعا کے موقع پر آدمی کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُس کا پورا وجود خدا کی تجلی میں نہا اٹھا ہے۔ اُس وقت وہ ایسے الفاظ بولنے لگتا ہے جو اُس نے اس سے پہلے کبھی سوچے نہیں تھے۔ تاریخ میں بہت سے خدا کے بندے ہیں، جن کو اس قسم کی دعاءِ اعظم کی توفیق ملی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues