دعا کے ذریعے شرکت
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۵
دعا کے ذریعے شرکت
قرآن کی سورہ نمبر 9 میں کچھ اہلِ ایمان کا ذکر ہے۔ غزوۂ تبوک (8 ہجری) کے موقع پر چوں کہ نفیر عام تھی، اس لیے وہ اُس میں جانا چاہتے تھے۔ مگر اُن کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ اِس طویل سفر کے لیے ضروری سامان کی تیاری کر سکیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدد کے لیے آئے، مگر آپ نے معذرت فرمائی۔ اِس واقعے کا اشارہ قرآن کی ایک آیت میں اِس طرح کیا گیا ہے: اور نہ اُن لوگوں پر کوئی الزام ہے کہ جب وہ تمھارے پاس آئے کہ تم اُن کو سواری دو، تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں کہ میں تم کو اُس پر سوار کروں، تو وہ اِس حال میں واپس ہوئے کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، اِس غم میں کہ اُنھیں کچھ میسر نہیں جو وہ خرچ کریں (التوبہ: 92)۔ یہ افراد غزوۂ تبوک میں شریک نہ ہو سکے، مگر ایک حدیثِ رسول کے مطابق، خدا کے نزدیک وہ اِس میں شریک مانے گئے۔ غزوۂ تبوک سے واپس ہوتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے متعلق اپنے اصحاب سے فرمایا: إن بالمدينة أقواماً، ما سرتم مسيراً، ولا أنفقتم من نفقة، ولا قطعتم من وادٍ، إلا وهم معكم فيه۔ یعنی مدینہ میں کچھ ایسے افراد ہیں کہ تم جب کسی راستے پر چلے، یا جب بھی تم نے کچھ مال خرچ کیا، یا تم کسی وادی سے گزرے تو وہ اِس میں تمھارے ساتھ تھے (القرطبی، جلد 8، 292، مسند احمد، جلد 3، صفحہ 103)۔
یہ بڑا عجیب انعام تھا جو مدینہ کے اُن افراد کو ملا، یعنی عمل کے بغیر عمل کے انعام میں شرکت۔ میں غور کرتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ انوکھا انعام اُن کو اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کی بنا پر ملا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے کہ وہ اپنی تنہائیوں میں رورو کر یہ دعا کر رہے ہوں کہ — خدایا، تو نے دوسروں کو جو انعام عادل ہونے کی حیثیت سے دیا، وہ انعام مجھ کو رحیم ہونے کی حیثیت سے دے دے۔ تو نے دوسروں کے لیے جو چیز اُن کے عمل کی بنا پر مقدر کی، وہ چیز میرے لیے میری دعا کے نتیجے میں مقدر کر دے۔ تو نے جو کچھ دوسروں کو استحقاق کی بنا پر عطا فرمایا، وہ چیز مجھ کو سوال کرنے والے کی حیثیت سے دے دے۔ دوسروں کو جو چیز تو نے استطاعت کی بنا پر دی، وہ مجھ کو عجز کی بنا پر دے دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues