اسمِ اعظم کا علم خدا کو
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۶
تو نے دوسروں کو جو چیز مومن قوی ہونے کی حیثیت سے دی ، وہ مجھ کو مومن ضعیف ہونے کی حیثیت سے دے دے ، کیوں کہ تیرے رسول نے ہم کو یہ خبر دی ہے کہ : ضعیف مومن کے لیے بھی خیر ہے (وفی کلِّ خیر ، صحیح مسلم ، کتاب القدر)۔
اسمِ اعظم کا علم خدا کو
اسمِ اعظم ، اسماء حسنیٰ سے الگ کوئی نام نہیں ، وہ اُنھیں ناموں میں شامل ہے۔ اسماء حسنیٰ میں سے کوئی اسم ، اُس وقت اسم اعظم بن جاتا ہے ، جب کہ دعا کرنے والا اُس کو ایک غیر معمولی جذبے کے تحت استعمال کرے۔ پکارنے والے کا جذبۂ اعظم ، اسماء حسنیٰ میں سے کسی اسم کو اسمِ اعظم بنا دیتا ہے۔ اسمِ اعظم کوئی پر اسرار منتر نہیں ، وہ مکمل طور پر ایک معلوم حقیقت ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ پکارنے والا یہ جانے کہ اُس نے اسمِ اعظم کے ذریعے خدا کو پکارا ہے۔ یہ در اصل خدا کی قبولیت ہے جو کسی اسم کو اسمِ اعظم کا درجہ دے دیتی ہے۔ اسم بظاہر ایک معلوم لفظ کا نام ہے ، لیکن کسی چیز کا اسمِ اعظم ہونا ، تمام تر داخلی اسپرٹ کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ چوں کہ داخلی اسپرٹ کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، اس لیے یہ صرف اللہ ہے جو جانتا ہے کہ کب اُس کے کسی بندے نے اُس کو اسمِ اعظم کے ساتھ پکارا۔ یہ حقیقت صرف آخرت میں کھلے گی کہ وہ کون خوش قسمت انسان تھا جس کو اسمِ اعظم کے ساتھ خدا کو پکارنے کی توفیق حاصل ہوئی۔ اس معاملے میں اگر ہم کچھ کہتے ہیں تو وہ صرف بُر بنا ء قیاس ہوتا ہے۔ کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو حقیقی علم کی بنیاد پر اس بارے میں کوئی رائے دے سکے۔ خدا اور بندے کے درمیان خدا نے انسان کے لیے اپنے جن اسماء حسنیٰ کا تعارف کرایا ہے ، وہ انسان کے اوپر ایک دروازۂ رحمت کھولنے کے ہم معنی ہے۔ اسماء حسنیٰ یہ بتاتے ہیں کہ بندے اور خدا کے درمیان مواقع اتصال (meeting points) کیا کیا ہیں۔ ان مواقع اتصال کے ذریعے بندہ ، خدا سے قربت حاصل کر سکتا ہے۔ پھر اگر بندے کی اسپرٹ بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہو تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ذکر اور اپنی دعا میں اسمِ اعظم کا استعمال کر سکے ، یعنی اُس اسم یا نام کا استعمال جس کے استعمال کے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues