دعا اور سپرد دعا
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۷
بعد ربانی اتصال اچانک اسی طرح ممکن ہو جاتا ہے، جس طرح بجلی کا سوئچ دبانے کے بعد اچانک بجلی کے بلب کا فوراً روشن ہو جانا۔
یہ معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ فطرت کا ایک قانون ہے، جس کو خود انسانوں کے درمیان محسوس تعلقات کا مطالعہ کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔
دعا اور سپرد دعا
دعا، یا خدا کو پکارنے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے سادہ طور پر کچھ متعین الفاظ بول کر خدا سے مانگنا۔ دوسری دعا وہ ہے جس کو سپرد دعا کہا جا سکتا ہے۔ یہ دعا کی وہ قسم ہے جس کو پکارنے والا ایسے الفاظ اور ایسے انداز میں پکارتا ہے کہ وہ خود خدا کے لیے، بلا تشبیہہ، اُسی طرح ایک ذاتی مسئلہ بن جاتا ہے، جس طرح وہ دعا کرنے والے کے لیے ایک ذاتی مسئلہ تھا۔ پہلی دعا اگر روایتی دعا (traditional dua) ہے تو دوسری دعا تخلیقی دعا (creative dua) ہے۔ انگریزی میں پہلی قسم کی دعا کو ریکویسٹ (request) کرنا کہا جاتا ہے اور دوسری قسم کی دعا کو انووک (invoke) کرنا، جیسے کہ کہا جائے: The Almighty God was invoked by his call. دعا اور اسمِ اعظم کی دعا میں یہی فرق ہے۔ دعا عام قسم کی ایک دعا ہے، اور اسمِ اعظم کی دعا گویا کہ ایک سپر دعا۔ یہاں ہم ایک واقعہ نقل کریں گے جو سپرد دعا کے معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک واضح مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایک واقعہ
رام پور (یوپی) کا واقعہ ہے۔ ایک بچے نے اپنے باپ سے کہا کہ میرے لیے ایک بائیکل خرید دیجئے۔ باپ کی آمدنی کم تھی، وہ بائیکل خریدنے کی پوزیشن میں نہ تھا، اس نے ٹال دیا۔ لڑکا بار بار کہتا رہا اور باپ بار بار منع کرتا رہا۔ بالآخر ایک روز باپ نے ڈانٹ کر کہا: میں نے کہہ دیا کہ میں بائیکل نہیں خرید سکتا۔ اب آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا، ورنہ میں تم کو ماروں گا۔ یہ سن کر لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ کچھ دیر چپ رہا۔ اس کے بعد وہ روتے ہوئے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues