Al-Risala · November 2007 · page 28

دعا اور سپرد دعا

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۸

بولا ــــ آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں، آپ سے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں ۔ اس جملے نے باپ کو تڑپا دیا۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا : اچھا بیٹے اطمینان رکھو، میں تمھارے لیے بائیسکل خریدوں گا، اور کل ہی خریدوں گا۔ یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ اگلے دن اس نے پیسے کا انتظام کر کے بیٹے کے لیے ایک نئی بائیسکل خرید دی۔

لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا، مگر یہ ایک ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی، جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہوگئی تھی۔ اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سرپرست کے آگے بالکل خالی کر دیا ہے۔ یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے نقطے پر کھڑا کر دیا جہاں اس کی درخواست اس کے سرپرست کے لیے بھی اتنا ہی بڑا مسئلہ بن گئی جتنا کہ وہ خود اس کے لیے تھی ۔ بیٹے کے الفاظ نے باپ کو اس سنگین سوال سے دوچار کر دیا کہ اگر وہ اپنے بیٹے کو بائیسکل نہ دے تو اُس کی پدر یت (fatherhood) ہی مشتبہ ہو جائے گی۔

اس واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے کہ دعا کی وہ کون سی قسم ہے جس کے بعد خدا کی رحمتیں بندے کے اوپر امڈ آتی ہیں ۔ یہ رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار نہیں ہے، نہ اس کا کوئی ’’رسمی نصاب‘‘ ہے۔ یہ دعا کی وہ قسم ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو انڈیل دیتا ہے۔ جب بندے کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمّل زمین اور آسمان بھی نہ کر سکیں ۔ جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کر دیتا ہے کہ ’’مانگنے والا‘‘ اور ’’دینے والا‘‘ دونوں ایک ترازو پر آجاتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب کہ دعا ، محض لغت کا ایک لفظ نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک شخصیت کے پھٹنے کی آواز ہوتا ہے ۔ اُس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہوجاتے ہیں ۔ قادرِ مطلق ، عاجزِ مطلق کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔

اس واقعے پر غور کیجیے تو اس میں دونوں قسم کی دعا کی مثال نظر آئے گی۔ مذکورہ بچے نے جب پہلی بار اپنے باپ سے یہ کہا کہ مجھے ایک بائیسکل خرید دیجیے تو اْس نے گویا کہ صرف دعا کی، لیکن دوسری بار جب اُس نے روک کر یہ کہا کہ آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں، آپ سے بائیسکل کے لیے نہ کہیں تو

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page