دو مثالیں
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۲۹
اور کس سے کہیں ۔ جب بچے کی زبان سے یہ دوسرے الفاظ نکلے تو وہ گویا کہ ایک سپر دعا تھی۔ پہلے قسم کے الفاظ سے باپ پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا، لیکن دوسرے قسم کے الفاظ نے باپ کو پگھلا دیا۔ اب وہ اتنا متاثر ہوا کہ وہ فوراً بائیسکل خریدنے کے لیے تیار ہو گیا۔
اس مثال سے عام قسم کی دعا اور اسمِ اعظم کی دعا کا فرق سمجھا جا سکتا ہے۔ عام قسم کی دعا، محض دعائیہ الفاظ کو زبان سے دہرادینے کا نام ہے، لیکن اسمِ اعظم کے ساتھ کی گئی دعا گویا کہ سپر دعا ہے۔ ایسی دعا خود خدا کو ہلا دیتی ہے، جیسا کہ مظلوم کی دعا کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ: دعوة المظلوم تحمل على الغمام، وتفتح لها أبواب السماء، يقول الربّ عزّ وجلّ:
وعزّتي، لأنصرنّك ولو بعد حين (مسند احمد، جلد 2، صفحہ 305)۔
دعا اور سپر دعا کا فرق، الفاظ میں فرق کا نام نہیں، بلکہ دعا کرنے والے کی داخلی اسپرٹ میں فرق کا نام ہے۔ یہ دراصل دعا کرنے والے کی اپنی حالتِ داخلی پر منحصر ہے کہ اُس کی زبان سے نکلنے والی دعا، سپر دعا بنے گی یا وہ صرف عام دعا بن کر رہ جائے گی۔
دو مثالیں
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے دونوں قسم کی دعاؤں کی مثال یہاں نقل کی جاتی ہے۔ ایک شخص نے قرآنی دعاؤں کی ایک کتاب بازار سے خریدی۔ اُس میں کچھ دعائیں چھپی ہوئی تھیں۔ اُس نے ان دعاؤں کو یاد کر لیا اور نمازوں میں اُن کو دہرانے لگا۔ مثلاً یہ دعا: ربّنا اتنا فی الدنیا حسنۃ، و فى الآخرة حسنۃ، وقنا عذاب النار۔ یعنی اے ہمارے رب، تو ہم کو دنیا میں حسنہ دے اور تو ہم کو آخرت میں حسنہ دے، اور تو ہم کو آگ کے عذاب سے بچا (البقرۃ: 201)۔ دعا کا یہ طریقہ روایتی دعا کی ایک مثال ہے۔
اب سپر دعا کی ایک مثال لیجیے۔ اب سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے مصر میں ایک مشرک بادشاہ کی حکومت تھی، جس کا لقب فرعون تھا۔ اس زمانے میں حضرت موسیٰ کا ظہور ہوا، جنھوں نے مصر میں دعوت توحید دی۔ فرعون خود تو حضرت موسیٰ کا مخالف بن گیا، لیکن اس کی بیوی آسیہ بنت مزاحم،
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues