دو مثالیں
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۰
حضرت موسیٰ کی دعوتِ توحید سے متاثر ہوئی اور وہ حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئی۔ قدیم زمانے کے اعتبار سے یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ قدیم زمانہ ’النّاس علی دینِ مُلوکهم‘ کا زمانہ تھا۔ اُس زمانے میں اسٹیٹ ریلیجن کو ماننا، سیاسی وفاداری کی علامت تھا۔ اسٹیٹ ریلیجن کے خلاف کسی اور ریلیجن کو ماننے والا، اسٹیٹ کا باغی سمجھا جاتا تھا اور اُس کو وہ سزا دی جاتی تھی جو ریاست سے بغاو ت کے لیے مقرر ہے۔ آج ہم مذہبی آزادی کے ماحول میں جیتے ہیں، لیکن قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک دنیا میں مذہبی جبر (religious persecution) کا نظام رائج تھا۔ یہی وہ پس منظر تھا جس میں فرعون نے آسیہ کے لیے قتل کا حکم دے دیا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اُس وقت آسیہ کی زبان سے یہ دعا نکلی: رَبِّ بْنِ لِي عِنْدَکَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ۔ یعنی اے میرے رب، اپنے پاس میرے لیے جنت میں ایک گھر بنا دے (التحریم: 11)
آسیہ کی اس دعا کو اُس کے پس منظر کی روشنی میں دیکھیے تو گویا کہ آسیہ نے یہ کہا۔ اے میرے رب، میں نے تیرے لیے دنیا میں بادشاہ کے محل کو چھوڑ دیا، اب تو آخرت کی ابدی دنیا میں میرے لیے اپنے پڑوس میں ایک محل بنادے:
I sacrifice my seat in the palace of worldly king, O Lord, give me a better seat in your neighbourhood in the world hereafter. آسیہ بنت مزاحم کی اس دعا کے لیے بعض علما نے درست طور پر کہا کہ : ما أحسن هذا الکلام، یعنی کتنی اچھی ہے یہ دعا (صفوة التفاسیر، جلد 3، صفحہ 412)۔
یہ دعا بلاشبہ، ایک تخلیقی دعا تھی۔ آسیہ بنت مزاحم کے سامنے دو چیزوں کے درمیان انتخاب تھا محل کی زندگی کی خاطر فرعون کے مشرکانہ مذہب پر قائم رہنا، یا خدا کے موحدانہ مذہب کی خاطر سقانہ قتل کا سامنا کرنا۔ آسیہ کی معرفت اُس وقت اتنی زیادہ گہری ہو چکی تھی کہ اُس کو یہ فیصلہ کرتے ہوئے ایک لمحے کی دیر نہیں لگی کہ مجھے حق کی خاطر، دنیا کے وقتی محل کو چھوڑ دینا چاہیے اور خدا کی ابدی جنت کو اپنے لیے منتخب کر لینا چاہیے، خواہ اس انتخاب کی قیمت میں مجھے قتل کر دیا جائے یا سولی پر چڑھایا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues