Al-Risala · November 2007 · page 31

اسمِ اعظم ایک زندہ تجربہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۱

اس پورے پس منظر کی روشنی میں دیکھیے تو آسیہ بنت مزاحم کی دعا بلا شبہہ ایک سپرد عاطھی اور وہ فوراً ہی قبول ہوگئی۔ روایات میں آیا ہے کہ موت سے پہلے فرشتوں نے آسیہ کو جنت میں اُس کے محل کا مشاہدہ کرایا۔ چناں چہ آسیہ نے اس حال میں جان دی کہ اُس کے چہرے پر اطمینان کی خوشی صاف دکھائی دے رہی تھی۔

آسیہ بنت مزاحم کی یہ دعا جو قرآن میں نقل کی گئی، وہ محض ایک فرد کی دعا نہیں ہے بلکہ وہ ایک نمائندہ دعا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کو یہی دعا کرنا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو اسی مرحلے سے گزرنا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو قربانی کی سطح پر جا کر یہ کہنا ہے کہ ۔ خدایا، میں نے تیرے دین کی خاطر دنیا کی چیزوں کو چھوڑا، تا کہ تو اگلے مرحلہ حیات میں اپنا زیادہ بہتر انعام مجھے عطا فرمائے۔ یہی وہ عورت اور مرد ہیں جن کی بابت یوم الحساب (Day of Judgement) کے موقع پر یہ اعلان کیا جائے گا کہ انھوں نے خدا کی خاطر دنیا کی عارضی جنت کو چھوڑ دیا تھا، اب اُن کو آخرت کی زیادہ اعلیٰ جنت میں داخل کر دو، تا کہ یہاں وہ ابدی طور پر خوشیوں اور راحتوں کی زندگی گزاریں اور کبھی اُکتاہٹ کے احساس کا شکار نہ ہوں۔

اسمِ اعظم ایک زندہ تجربہ

اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا، خدا کی توفیق سے ہوتا ہے۔ یہ توفیق صرف اُس انسان کو ملتی ہے جو اسمِ اعظم کی دعا سے پہلے اسمِ اعظم کی کیفیات میں جی رہا ہو۔ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کا معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں ۔ وہ دراصل ’الانا يترشح بما فيه کا معاملہ ہے، یعنی ایک انسان جو حق کا متلاشی تھا، پھر اُس کو خدا کی صورت میں حق مل گیا اور اُس کا وہ حال ہوا جس کی تصویر قرآن میں اس طرح بیان کی گئی ہے: اَو مَن كَان ميتاً فَأحيَيناه، وجعلنا له نوراً يمشى به فى النّاس۔ یعنی وہ شخص جو مُردہ تھا، پھر ہم نے اُس کو زندگی دی اور ہم نے اُس کو ایک روشنی دی کہ اُس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے (الأنعام: 123)۔

ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ذِکرِ کثیر (الأحزاب: 41) میں جینے لگتا ہے، یعنی ہر

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page