اسمِ اعظم ایک زندہ تجربہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۲
وقت خدا کو یاد کرنا، ہر وقت خدا کے بارے میں سوچنا، ہر لمحہ خدا کی تجلیات کا تجربہ کرنا۔ ایسا انسان گویا کہ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنے کے لیے ایک تیار ذہن (prepared mind) ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی خاص موقع اُس کی زندگی میں پیش آتا ہے تو اُس کے اندر چھپے ہوئے ربانی جذبات ایک طوفان بن کر اُبل پڑتے ہیں۔ اُس وقت وہ مخصوص قسم کے الہامی الفاظ میں خدا کو پکارنے لگتا ہے۔ ایک تیار ذہن سے نکلنے والی اسی قسم کی الہامی دعا کا نام اسمِ اعظم کے ساتھ خدا کو پکارنا ہے۔ ایک صالح خاتون کا واقعہ جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم خفیہ طور پر حضرت موسیٰ کے دین پر ایمان لائی تھی۔ جب فرعون کو اس کا علم ہوا تو وہ بہت غصہ ہوا اور اُس کے قتل کا فیصلہ صادر کر دیا۔ اُس وقت آسیہ کی زبان سے ایک دعا نکلی جو قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے: رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ، وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ، وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ۔ یعنی اے میرے رب، میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھ کو فرعون اور اُس کے عمل سے بچا لے اور مجھ کو ظالم قوم سے نجات دے (التحریم: 11)۔
یہ دعا ایک ایسی دعا ہے جس کے اندر اسمِ اعظم کی روح پوری طرح موجود ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ آسیہ نے جب یہ دعا کی تو اُس وقت موت سے پہلے اُس کو یہ تجربہ ہوا کہ فرشتوں نے اُس کو آخرت کی دنیا میں ملنے والا جنتی مکان اُس کو دکھا دیا (القرطبی، جلد 18، صفحہ 203)۔ یہ بات یقینی ہے کہ آسیہ کی زبان سے یہ دعا اچانک یا اتفاقاً نہیں نکلی، بلکہ وہ اُس کی پچھلی زندگی کے دوران پیش آنے والے تجربات کا نتیجہ تھی۔ اس دعا سے پہلے وہ ایک تیار شخصیت بن چکی تھی۔ وہ پہلے ہی سے ذکر اور دعا کے مخصوص لمحات میں جی رہی تھی ۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ جب فرعون کی سفاکی کا معاملہ پیش آیا تو اُس کی زبان سے فطری طور پر مذکورہ قسم کے ربانی الفاظ نکل پڑے۔ ایک تاریخی مثال سلطان عبد الرحمن الناصر (وفات : 961 ء) اسپین (اندلس) کا ایک مسلم حکمراں تھا۔ اُس نے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues