Al-Risala · November 2007 · page 38

تو میرے لیے پلے بیک اسپیکر بن جا

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۸

میں نے کہا کہ حضرت موسیٰ نے جب اس طرح خدائے سمیع و بصیر کو پکارا تو ان کی دعا سیدھے عرش الہیٰ تک پہنچ گئی اور وہاں سے آواز آئی: لقد أوتيت سُؤلك يا موسیٰ۔ یعنی اے موسیٰ، تم نے جو سوال کیا، وہ تم کو دے دیا گیا (طٰه: 36)۔

اس کے بعد میں نے دیوانگی کے عالم میں کہا کہ یہ واقعہ کوئی ماضی کی سرگزشت نہیں، یہ واقعہ آج بھی اسی طرح زندہ ہے، جس طرح خدائے حی و قیوم زندہ موجود ہے۔ آج بھی اگر کوئی خدا کا بندہ خدا کو پکارے اور کہے کہ خدایا، میرا سینہ تنگ ہو رہا ہے اور میری زبان چلتی نہیں تو آج بھی اُس کی یہ آواز خدائے سمیع و بصیر تک پہنچے گی اور وہاں سے آواز آئے گی کہ اے میرے بندے، تم نے جو سوال کیا وہ تم کو دے دیا گیا۔ میں یہ کہہ رہا تھا اور میری آنکھ سے آنسو نہ تھمنے والے مینہ کی طرح برس رہے تھے ۔ اس کے بعد میں نے بے اختیارانہ انداز میں بولنا شروع کیا اور مسلسل بولتا رہا۔ یہ واقعہ میرے لیے اس معاملے میں ایک بریک تھرو (breakthough) کی مانند تھا۔ اس کے بعد میں نے تقریری مقالہ لکھنا چھوڑ دیا اور برجستہ انداز میں بولنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد میں نے انڈیا کے اندر اور انڈیا کے باہر سیکڑوں اجتماعات میں شرکت کی اور لمبی لمبی تقریریں کیں۔ یہ بلاشبہ اَن جان شہید کے اجتماع والی دعا کا کرشمہ تھا۔

میری سمجھ کے مطابق، یہ دعا اسمِ اعظم کے ساتھ کی ہوئی دعا تھی۔ اس سے پہلے میں گویا ایک بے زبان انسان تھا۔ میرے مرحوم عزیز مولانا اقبال احمد سہیل (وفات: 1955) مجھ کو بچپن میں مرزا پھوپھو“ کہا کرتے تھے۔ مذکورہ واقعے کے بعد میں جس طرح اجتماعات میں بولنے لگا، اْس کی کوئی بھی توجیہہ دعا کے سوا نہیں کی جاسکتی۔

تو میرے لیے پلے بیک اسپیکر بن جا

ایک بار میں ایک مغربی ملک کے سفر پر تھا۔ اس دوران مجھے ایک اجتماع میں خطاب کے لیے بلایا گیا ۔ بلانے والے نے مجھ سے یہ نہیں بتایا تھا کہ مجمع کی نوعیت کیا ہوگی، اس نے صرف یہ بتایا تھا کہ یہ پڑھے لکھے لوگوں کا مجمع ہوگا۔ کسی غلط فہمی کی بنا پر میرے ذہن میں یہ آگیا کہ وہاں ہندوستان اور

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page