Al-Risala · February 2007 · page 5

اب میری کون سنے گا

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۵

سمجھ جاتا ہے کہ پیسفزم کو بطور اصول ماننے والے تو بہت سے لوگ ہیں۔ لیکن پیسفزم کی بنیاد پر ایک پوری تحریک اٹھانا اور اس کو کامیابی تک پہنچانے کا کام صرف مہاتما گاندھی نے کیا۔ لیکن اِس معاملے میں مہاتما گاندھی کی مثال صرف پچاس فیصد کی حد تک درست ہے۔ کیوں کہ اُن کے مشن کے دو حصے تھے۔ اس کا ایک حصہ یہ تھا کہ انڈیا سے برٹش رول کا خاتمہ کیا جائے، یہ کام ۱۹۴۷ء میں ہوگیا۔ ان کے مشن کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ آزادی کے بعد انڈیا میں ایک بہتر سماج کی تعمیر کی جائے، ایک ایسا سماج جس کی بنیاد’’سیوا‘‘پر قائم ہو۔ اِس مقصد کے لیے انھوں نے ایک ماڈل گاؤں کے طور پر مہاراشٹر میں’’سیوا ا گرام‘‘کے نام سے ایک گاؤں بسایا تھا۔ حضرت مسیح کے الفاظ کو لیتے ہوئے انھوں نے اپنے اس مشن کو اس طرح بیان کیا تھا— میرا مشن ہر آنکھ کے آنسو پوچھنا ہے: My mission is to wipe away tears from all faces. مگر واقعات بتاتے ہیں کہ مہاتما گاندھی کے مشن کا دوسرا حصہ ایک فیصد کے درجے میں بھی پورا نہیں ہوا۔ آزادی کے بعد جب مشن کے دوسرے حصے کے لیے کام کرنے کا وقت آیا تو خود مہاتما گاندھی کے اپنے ملک میں ۱۹۴۸ء میں اُن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ان کے مشن کا دوسرا پہلو ہی اُس کا اصل پہلو تھا، مگر اس معاملے میں ان کے قریبی آدمیوں نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔ وہ مشن کے دوسرے پہلو کے اعتبار سے سخت مایوسی کی حالت میں مرے۔ اپنے آخری زمانے میں اِس کا اعتراف انھوں نے خود اِس طرح کیا تھا کہ انھوں نے کہا—”اب میری کون سُنے گا“۔ مہاتما گاندھی کے اس قول کو لے کر ایک کتاب لکھی گئی ہے جس کا ٹائٹل ان کا یہی قول ہے:

اب میری کون سنے گا

۱۹۴۷ء میں آزادی کے بعد جواہر لال نہرو انڈیا کے پہلے وزیر اعظم بنے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ انڈیا کے لوگوں میں سب سے زیادہ کمی جس چیز کی ہے، وہ ہے سائنسی مزاج (scientific temper)، مگر یہ بات اتنی سادہ نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انڈیا کے لوگوں میں سائنسی مزاج نہ ہونا بعد از آزادی دور کا ظاہر ہ ہے، ورنہ آزادی سے پہلے کے زمانے میں یہاں سائنسی مزاج ثابت شدہ طور پر موجود تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page