Al-Risala · November 2007 · page 39

تو میرے لیے پلے بیک اسپیکر بن جا

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۳۹

پاکستان کے لوگ ہوں گے اور مجھے وہاں اردو میں خطاب کرنا ہوگا۔

یہ رات کا وقت تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک صاف ستھرے ہال میں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ دریافت کرنے پر مجھے بتایا گیا کہ یہ سب انگریزی داں لوگ ہیں۔ ان کو مجھے انگریزی میں خطاب کرنا ہے، کیوں کہ وہ لوگ اردو نہیں سمجھ سکتے۔ یہ خبر میرے لیے ایسی تھی جیسے کسی کے اوپر اچانک بجلی گر جائے۔ اس سے پہلے میں نے انگریزی زبان میں پیشگی طور پر تیار کیے ہوئے مقالے پڑھے تھے، لیکن برجستہ طور پر انگریزی میں میں نے کبھی خطاب نہیں کیا تھا۔ ہال کے ساتھ وہاں ایک سائیڈ روم تھا۔ میں سراسیمگی کے عالم میں اس سائیڈ روم میں گیا۔ میں نے اندر سے دروازے کو بند کر لیا۔ اور وضو کر کے دو رکعت صلوٰۃ الحاجت پڑھی۔ اس کے بعد میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو میری آنکھوں سے آنسو اس طرح بہہ رہے تھے جیسے کہ پانی کا نل کھل گیا ہو۔ میں نے روتے ہوئے کہا کہ خدایا، یہاں ایک عاجزِ مطلق کو قادرِ مطلق کی ترجمانی کرنی ہے۔ آپ اگر چاہیں تو پتھروں کو حکم دیں اور وہ چلا کر آپ کی بات کا اعلان کریں۔ آپ اگر حکم دیں تو درخت اپنی خاموشی کو توڑ کر انسانوں سے خطاب کریں۔ اگر آپ حکم دیں تو زمین اور آسمان، وہ سب کچھ بولیں جو انسان کو بولنا تھا، مگر وہ نہ بول سکا۔ لیکن خدایا، آپ خود اپنے قانونِ امتحان کی بنا پر ایسا نہیں کر سکتے۔ اس لیے آپ کے سامنے اس کے سوا کوئی اور انتخاب نہیں کہ آپ میرے جیسے عاجز انسان کی وہ مدد کریں جو اس سے پہلے آپ نے کسی اور کی نہیں کی۔

خدایا، میں آپ کے تمام اسماءِ حسنیٰ کا واسطہ دے کر آپ سے دعا کرتا ہوں کہ آپ میرے لیے پلے بیک اسپیکر (playback speaker) بن جائیں۔ آپ بولتے جائیں اور میں اس کو دہراتا جاؤں۔ آپ خاموشی کی زبان میں مجھ کو بتائیں اور میں نُطق کی زبان میں اس کو دوسروں کے سامنے پیش کروں۔ خدایا، اگر میں اس موقع پر نہ بولوں تو یہ میرے لیے 'فرار من الزّحف‘ کے ہم معنی ہوگا۔ اور اگر آپ میری مدد نہ کریں تو اُس بات کا اعلان نہ ہو سکے گا جس کا اعلان آپ کی سب سے زیادہ مطلوب چیز ہے۔ خدایا، یہ وہ لمحہ ہے جب کہ نہ میرے لیے کوئی دوسرا انتخاب ہے اور نہ آپ کے لیے کوئی دوسرا

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page