Al-Risala · November 2007 · page 40

عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴۰

انتخاب۔ خدایا، یہ وہ لمحہ ہے جب کہ بندے کا عجز اور خالق کی قدرت دونوں ایک سطح پر آ گئے ہیں۔ ایسی صورت میں نہ میرے لیے واپسی کا موقع ہے اور نہ آپ کے لیے مجھ کو نظر انداز کرنے کا موقع۔ یہ دعا کر کے میں باہر آیا اور ہال کے اندر مقرر کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ پورا ہال سامعین سے بھرا ہوا تھا۔ یہاں صرف مجھ کو تقریر کرنا تھا۔ میں نے دیوانگی کے عالم میں بولنا شروع کیا۔ اور تقریباً ایک گھنٹے تک انگریزی میں بولتا رہا۔ میں نے پوری تقریر برجستہ طور پر اور روانی کے ساتھ کی۔ تقریر کے خاتمے پر اعلان کیا گیا کہ کوئی صاحب سوال کرنا چاہیں تو سوال کر سکتے ہیں، لیکن مجمع کی طرف سے کوئی سوال نہ آیا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ تمام لوگ آپ کی انگریزی تقریر سے اس قدر مسحور تھے کہ وہ اپنے اندر سوال کرنے کی جرأت نہ پا سکے۔

اس تجربے کے بعد میری زندگی میں غیر متوقع طور پر ایک نیا دور آیا، جب کہ میں برجستہ طور پر انگریزی زبان میں بولنے لگا۔ انگریزی میں گفتگو، انگریزی میں انٹرویو، انگریزی میں تقریر۔ یہ سب جو اس سے پہلے میری زندگی میں موجود نہ تھا، اب وہ عمومی طور پر میری زندگی میں شامل ہو گیا اور بفضلہ تعالیٰ تادم تحریر (30 اگست 2007) جاری ہے۔

آزادیٔ ہند (1947) کے بعد جب میں نے خصوصی طور پر انگریزی سیکھنا شروع کیا تو ہر ایک میری حوصلہ شکنی کرتا تھا۔ میرے بڑے بھائی (عبدالعزیز خاں) نے میرے انگریزی شوق کو دیکھ کر کہا تھا: بُڈھا طوطا کیا پڑھے گا۔ عام تجربے کے لحاظ سے، اُن کا ایسا کہنا بالکل درست تھا۔ لیکن خدا کی نصرت سے وہ سب کچھ ہوسکتا ہے جو انسان سے نہیں ہوسکتا۔ میرے گمان کے مطابق، مذکورہ دعا بلاشبہ، اسم اعظم کے ساتھ کی جانے والی دعا تھی اور اسی دعا کا یہ کرشمہ تھا کہ ایک نہ ہونے والی بات واقعہ بن کر لوگوں کے سامنے آگئی۔

عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر

پروفیسر محمد مجیب (وفات: 1985) جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تین بڑے ستونوں میں سے ایک تھے۔ بقیہ دو یہ تھے: ڈاکٹر ذاکر حسین (وفات: 1969)، ڈاکٹر عابد حسین (وفات: 1978)۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page