Al-Risala · November 2007 · page 41

عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴۱

پروفیسر مجیب نہایت اعلی تعلیم یافتہ تھے۔ اُن کو انگریزی زبان پر غیر معمولی قدرت تھی۔ انھوں نے مستشرقین (orientalists) کا لٹریچر تفصیل کے ساتھ پڑھا تھا۔

غالباً 1970 کی بات ہے۔ میں جامعہ ملیہ کے کیمپس میں پروفیسر مجیب سے ملا۔ اُس وقت پروفیسر انور علی خان سوز (وفات: 1987) بھی میرے ساتھ تھے۔ گفتگو کے دوران پروفیسر مجیب نے خاص انداز میں مجھ سے کہا: مولوی صاحب، آپ جانتے ہیں کہ اس زمانے میں اسلام کی نمائندگی یہودی اسکالر کر رہے ہیں۔

اُن کا مطلب یہ تھا کہ موجودہ زمانے میں ایک نیا اسلوب تحریر پیدا ہوا ہے۔ اس اسلوب تحریر میں، مسلم علما اسلامی لٹریچر تیار نہ کر سکے۔ البتہ تعلیم یافتہ یہودیوں نے یہ کام کیا۔ انھوں نے وقت کے جدید اسلوب میں اسلام کے مختلف موضوعات پر کتابیں لکھیں۔ ان کتابوں میں اگر چہ اسلام کی تعلیمات کو بگڑی ہوئی صورت میں پیش کیا گیا ہے، لیکن اسلوب تحریر کے اعتبار سے وہ وقت کے اسلوب میں ہیں۔ اس لیے آج جو تعلیم یافتہ لوگ انگریزی زبان میں اسلام کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں، وہ اکثر انھیں یہودی علما کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔

میں پروفیسر مجیب کی باتوں کو سنتا رہا۔ میں نے ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا، لیکن اُن کی بات کو سن کر میرے دماغ میں ایک بھونچال آگیا۔ میں خاموشی کے ساتھ واپس آگیا اور پھر رات دن یہ دعا کرنے لگا کہ خدایا، مجھے توفیق دیجیے کہ میں آپ کے دین کو آج کے اسلوب میں دنیا کے سامنے پیش کر سکوں، میں عصری اسلوب میں اسلام کا لٹریچر تیار کر سکوں۔

میں اکثر کسی واقعے کا حوالہ دے کر دعا کرتا ہوں۔ اس معاملے میں بھی میں نے ایسا ہی کیا۔ اصل یہ ہے کہ آزادی کے بعد یوپی میں خاتمہ زمین داری کا قانون (zamindari abolition act) نافذ ہوا۔ نیشنل گورنمنٹ کے تحت، یہ قانون اِس اصول پر مبنی تھا کہ ــــ جو جوتے، اُس کا کھیت۔ میرا خاندان یوپی کے اعظم گڑھ سے تعلق رکھتا تھا۔ ہمارا خاندان وہاں کے بڑے زمین داروں میں سے ایک تھا۔ ہماری زمینیں زیادہ تر کسانوں کو دی ہوئی تھیں، جو اُن کو جوتتے تھے اور لگان ادا کرتے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page