عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴۲
تھے۔ خاتمہ زمیں داری کے قانون کے مطابق، زمین دار کو اُس کی زمین واپس ملنے کی صرف ایک ہی صورت تھی، وہ یہ کہ زمین کو جوتنے والا کسان تحریری طور پر زمین سے استعفادے دے۔ ہماری بیشتر زمینیں کسانوں کے پاس تھیں ۔ یہ کسان سب کے سب ہندو لوگ تھے۔ ہماری زمیں داری کے منیجر بھی ایک ہندو تھے، جن کا نام بھاؤ رام تھا۔ بھاؤ رام ہمارے خاندان کے نہایت وفادار ملازم تھے۔ انھوں نے ایک طوفانی مہم چلادی کہ تمام کسان جو ہماری زمینوں کو جوتے ہوئے تھے، وہ تحریری استعفادے دیں۔ بھاؤ رام نے اپنی رات دن کی کوشش سے ایک ایک کسان سے استعفا لکھوالیا۔ ہمارے ساتھ استثنائی طور پر ایسا ہوا کہ ہمارا کوئی بھی کھیت ایسا نہ بچا جس کا تحریری استعفا حاصل نہ کر لیا گیا ہو۔
اُس زمانے میں بھاؤ رام پر ایک دیوانگی طاری تھی۔ وہ ہم لوگوں سے کہتے تھے کہ: بابو، زمیں داری میں داغ نہ لگنے پائے (بابو، زمیں داری میں داغ نہ لگنے پائے) میں اِس واقعے کے حوالے سے خدا سے دعا کرنے لگا۔ میں روتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ خدایا، تیرے دین میں ایک داغ لگ رہا ہے۔ تیرا دین اِس اسلوب میں پیش نہیں ہو رہا ہے جو آج کے جدید ذھن کو ایڈریس کر سکے۔ تو مجھے توفیق دے کہ میں تیرے دین کے اِس داغ کو ہٹاؤں، میں وقت کے اسلوب میں اسلام کو پیش کر سکوں۔ میں بے قرار دل اور اشک بار آنسوؤں کے ساتھ یہ دعا کرتا تھا اور رات دن اپنی تیاری میں مشغول رہتا تھا۔ اُس زمانے میں میری بے قراری کا عالم یہ تھا کہ ایک بار میں دلی پبلک لائبریری میں گیا۔ وہاں کے ریفرنس سیکشن میں جاکر ریفرنس کی کتابوں کو پڑھنے لگا۔ اِس وقت میری محویت کا یہ عالم تھا کہ میں قریب کی کرسی پر نہ بیٹھ سکا۔ میں الماری کے سامنے کھڑا تھا اور کتابیں نکال نکال کر پڑھ رہا تھا۔ یہ سخت سردی کا زمانہ تھا۔ چناں چہ مجھے سردی لگ گئی اور میں بیمار ہو کر تقریباً دو مہینے تک بستر پر پڑا رہا۔
آج جب کہ میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں، میں کہہ سکتا ہوں کہ میں نے خدا کی توفیق سے تقریباً ہر اسلامی موضوع پر اتنی کتابیں لکھی ہیں، جو ایک تعلیم یافتہ انسان کے لیے وقت کے اسلوب میں
‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues