Al-Risala · November 2007 · page 43

عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۷، صفحہ ۴۳

اسلام کا مؤثر تعارف پیش کرتی ہیں۔ مشرق اور مغرب دونوں جگہ کے اہل علم نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔

لوگوں کا یہ تاثر یہاں تک پہنچا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں بہت سے تعلیم یافتہ لوگوں نے میرے لٹریچر کو پھیلانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردی ہیں۔ امریکہ میں مقیم کچھ تعلیم یافتہ مسلمانوں نے اپنے ذاتی جذبے کے تحت، میری تمام کتابوں اور ماہ نامہ الرسالہ کو انٹرنیٹ کے ویب سائٹ پر ڈال دیا ہے۔ اب دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی آدمی میری تحریروں کو اردو اور انگریزی میں انٹرنیٹ کی مدد سے پڑھ سکتا ہے۔

اسی طرح مصر کے کچھ عرب حضرات میری کتابوں کو انٹرنیٹ پر ڈال رہے ہیں۔ ان شاء اللہ، اب ہر جگہ میری عربی کتابیں بھی انٹرنیٹ کی مدد سے پڑھی جاسکیں گی۔ اس کے علاوہ، انڈیا میں ایک پوری ٹیم نے اپنے آپ کو اس مشن کے لیے وقف کر دیا ہے۔ اس طرح یہ کام اب ہر دن عالمی سطح پر پھیل رہا ہے۔ اسی طرح کچھ تعلیم یافتہ لوگوں نے اس لٹریچر کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ انھوں نے محض ذاتی جذبے کے تحت، میری اردو اور انگریزی تقریروں کو ٹی وی کے پروگرام میں شامل کر دیا۔ فزاهم الله خيرا الجزاء۔

”عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر‘‘ کا وجود میں آنا بلاشبہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ میرے جیسے عاجز اور بے حقیقت آدمی کے ذریعے یہ واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کی اس کے سوا کوئی اور توجیہہ ممکن نہیں کہ اسم اعظم کے دعا جو میرے بے قرار دل سے نکلی، اُس کو خدا نے قبول فرمایا اور اس طرح اسلام کے جدید تعارف کا وہ واقعہ پیش آیا جو میرے جیسے انسان کے لیے ناقابل تصور تھا۔ ایک واقعہ 24 اکتوبر 2005 کا واقعہ ہے۔ یہ عید کا دن تھا۔ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ نئی دہلی کی ایک مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے گیا۔ وہاں میں مسجد کے ایک گوشے میں تنہا بیٹھا ہوا تھا۔ میں مسلسل رورہا تھا اور بے قراری کے عالم میں دل کی زبان سے دعا کر رہا تھا۔ میری اس حالت کو مولانا محمد ذکوان ندوی نے دیکھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2007 All issues

Printed page