Al-Risala · February 2007 · page 6

Slavery or freedom-choose between the two.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۶

اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ آزادی کے پہلے کے انڈ یا میں اس پہلو سے ٹاپ کے لوگ پیدا ہوئے۔ ۔ مثلاً سی ایس وی رمن، رابندر ناتھ ٹیگور، آرووندو، رادھا کرشنن، راج گوپال آچاریہ اور سوامی وویکا نند، وغیرہ۔ اس قسم کی بہت سی اعلیٰ شخصیتیں آزادی سے قبل کے زمانے میں پیدا ہوئیں، مگر آزادی کے بعد اس قسم کا کوئی ایک شخص بھی پیدا نہ ہوسکا۔

آزادی کے بعد کے انڈیا میں غیر سائنسی مزاج کیسے آیا۔ اس کی تمام تر ذمے داری اُس نان وائلنٹ ایکٹوزم پر ہے جس کو حصول آزادی کے لیے یہاں استعمال کیا گیا تھا۔ جواہر لال نہرو آزادی سے پہلے ہندوستانیوں کو خطاب کر کے کہا کرتے تھے غلامی یا آزادی، دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرلو:

Slavery or freedom-choose between the two.

اس قسم کے نعروں کے ذریعے انڈ یا کے لوگوں میں جو مزاج پیدا ہوا، وہ یہی غیر سائنٹفک مزاج تھا۔ ۱۹۴۷ سے پہلے انڈیا میں جو سیاسی نظام تھا، وہ صحیح لفظ میں ’’برٹش رول تھا غلامی در اصل برٹش رول کا بُرا نام تھا جو اس لیے استعمال کیا گیا تھا کہ ہندوستانیوں کو بھڑکایا جا سکے۔ گاندھی اور نہرو کی قیادت میں آزادی کی تحریک نان وائلنس کی بنیاد پر چلائی گئی تھی۔ نان وائلنٹ متحد کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری تھا کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ موبلائز کیا جائے۔ برٹش رول کا لفظ لوگوں کو زیادہ بھڑکانے والا نہیں بن سکتا تھا، اس لیے اس کو غلامی کا اشتعال انگیز نام دیا گیا، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ انگریزی اقتدار کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔

بھڑکانے والے الفاظ بول کر اور اشتعال انگیز تقریریں کر کے یہ فائدہ تو ہوا کہ ہندوستانی عوام بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ اس طرح نعروں کی سیاست کو خوب فروغ حاصل ہوا۔ انگریز مُردہ باد جیسے نعرے ہر طرف سنائی دینے لگے، مگر انگریزوں کے خلاف یہ کامیاب سیاست خود انڈیا کے لیے ایک ناکام سیاست ثابت ہوئی ۔ اس بھڑکانے والی سیاست کا یہ براہ راست نتیجہ تھا کہ ہندوستان میں سائنسی مزاج کا خاتمہ ہو گیا جو آج تک جاری ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page