Al-Risala · February 2007 · page 7

Could Gandhi have succeeded today?

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۷

قدیم ہندوستان کا مائنسی مزاج اچانک نہیں بنا تھا، بلکہ وہ لمبی روایات کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا۔ درست طور پر کہا گیا ہے کہ کسی سماج میں اس قسم کی صحت مند روایت کے لیے ایک لمبی تاریخ درکار ہوتی ہے:

It requires a lot of history to make a little tradition. انڈیا میں نان وائلنٹ موومنٹ کا سائنس پہلو یہ تھا کہ اس کی وجہ سے ماضی کی تمام صحت مند روایتیں ٹوٹ گئیں۔ قانون کی پابندی کی روایت، تعلیم اور تعلم کی روایت، سماجی میل ملاپ کی روایت، دیانت دارانہ طور پر کام کرنے کی روایت، صلح پسندی کی روایت، بے غرضانہ سروس کی روایت، چھوٹے اور بڑے کے احترام کی روایت، اخلاقی قدروں کی روایت، یہ تمام روایتیں عوام کو موبلائز کرنے کے طوفان میں ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہوگئیں۔ آج انڈیا میں جو انارکی اور کرپشن ہے، وہ انگریزوں کی وراثت نہیں ہے، بلکہ وہ یقینی طور پر نان وائلنٹ تحریک کی وراثت ہے۔ وائلنٹ تحریک وقتی طور پر کچھ انسانوں کا خون بہاتی ہے، لیکن نان وائلنٹ تحریک سماجی روایات کو توڑ کر نا معلوم مدت تک کے لیے سماج کو مزاج کو مبتلا کر دیتی ہے۔ انسان کا قتل بلاشبہہ غلط ہے، لیکن روایات کا قتل اس سے بھی زیادہ غلط ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بارے میں دانش مند لوگوں کے درمیان کوئی دو رائے نہیں۔ لمبی مدت کے درمیان رشیوں اورمنیّوں، سنتوں اور صوفیوں نے ملک میں جو صالح سماجی روایات قائم کی تھیں، وہ نان وائلنٹ تحریک کے سیاسی ابھيان میں اس طرح ختم ہوگئیں جس طرح کوئی آندھی تنکوں کو اڑا کر بکھیر دیتی ہے۔

نئی دہلی (پائتر ہاؤس) میں جنوری 1997 میں ایک سیمنار ہورہا تھا۔ اس میں حسب ذیل پانچ افراد نے شرکت کی تھی— رام چندر گاندھی، رویندر کمار، سبر اتا مکھرجی، آر کے ملکانی، اور راقم الحروف۔ اس سیمنار کا موضوع یہ تھا:

Could Gandhi have succeeded today?

اس موقع پر میں نے جو تقریر کی تھی، وہ پوری کی پوری، نئی دہلی کے انگریزی روز نامہ دی پائئر

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page