Could Gandhi have succeeded today?
الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۸
(The Pioneer) کے شمارہ ۲۶ جنوری ۱۹۹۷ میں چھپی تھی۔ میری تقریر کے ایک جملے کو لے کر اس کا عنوان اخبار نے ان الفاظ میں قائم کیا تھا:
Gandhi presided over a non-violent coup, He did not usher in a revolution. میں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ مہاتما گاندھی اور ان کے ساتھیوں نے یہ سمجھا تھا کہ فارین رول تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ انڈیا میں جب نیشنل رول آجائے گا تو تمام خرابیاں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی، مگر حالات بتاتے ہیں کہ یہ صرف ایک غلط اندازہ تھا۔ جن لوگوں نے بھی میری طرح قبل از آزادی، اور بعد از آزادی، دونوں زمانوں کو دیکھا ہے، وہ متفقہ طور پر یہ کہیں گے کہ ۱۹۴۷ سے پہلے کا زمانہ، ۱۹۴۷ کے بعد کے زمانے سے ہر اعتبار سے بہتر تھا۔ پہلے زمانے میں جو اخلاقی اور انسانی قدریں سماج کے اندر موجود تھیں، وہ بعد کے زمانے میں کہیں دکھائی نہیں دیتیں۔ اب پالٹکس اور ایڈمنسٹریشن اور قومی ادارے، سب کرپشن میں غرق ہو کر رہ گئے ہیں، جب کہ برٹش رول کے زمانے میں قطعا ایسا نہ تھا۔
میری تقریر کے بعد ایک پروفیسر صاحب نے کہا کہ مجھے آپ کی اس بے جسارت پر تعجب ہے کہ آپ فادر آف دی نیشن مہاتما گاندھی پر تنقید کرتے ہیں، آپ کو گاندھی سے محبت نہیں۔ میں نے اس اعتراض کے جواب میں نرمی کے ساتھ کہا کہ ــــ میں گاندھی سے محبت کرتا ہوں، لیکن میں انڈیا سے اُس سے بھی زیادہ محبت کرتا ہوں:
I love Gandhi, but I love India more than Gandhi. تنقید کوئی بُری چیز نہیں۔ سنجیدہ تنقید دراصل ری اسس منٹ (reassessment) کا دوسرا نام ہے۔ اس قسم کی تنقید زندہ قوموں کی خصوصیت ہے۔ زندہ قوموں کے نزدیک اس قسم کی تنقید ایک محبوب فعل ہے۔ کیوں کہ اس سے ملک کی ترقی مسلسل جاری رہتی ہے۔
اس قسم کی صحت مند تنقید ہماری ایک شدید ضرورت ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ ہندوستان میں ایک بہت بڑی بُرائی رواج پا گئی، وہ ہے ہڑتال، اسٹرائک، بھارت بند، چِکّا جام، وغیرہ۔ اس میں
‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues