India is world's No. 1 bribe payer.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۹
اسمبلی اور پارلیمنٹ کے ہنگامے بھی شامل ہیں۔ یہ چیزیں جو حقیقی جمہوریت کے فروغ میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں، وہ براہ راست طور پر ۱۹۴۷ء سے پہلے کی ’’ستیا گرہ‘‘ پر مبنی سیاست کا براہ راست نتیجہ ہیں۔ اس پر تنقیدی جائزے کے بغیر اس تباہ کن سیاست کا خاتمہ ممکن نہیں۔
۵ اکتوبر ۲۰۰۶ء کے اخباروں میں ایک خبر چھپی ہے۔ یہ ورلڈ اکنا مک فورسز ایگزیگیٹوآپی نین سروے (World Economic Forum's Executive Opinion Survery) کی رپورٹ ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار دی ٹائمس آف انڈیا (۵ اکتوبر ۲۰۰۶ء) کے صفحہ اول پر یہ رپورٹ اس عنوان کے تحت چھپی ہے :
India is world's No. 1 bribe payer.
انٹر نیشنل ادارے کی یہ رپورٹ ۱۲۵ ملکوں کے سروے کے بعد تیار کی گئی ہے۔ اس سروے کے مطابق، انڈیا میں کرپشن آخری حد تک بڑھ چکا ہے۔ نیشنل اور انٹرنیشنل دونوں میدان میں انڈیا تمام ملکوں سے آگے ہے :
“India doesn't just have loads of corruption at home, it is also the world leader in exporting graft.” (p. 1)
انڈیا میں رشوت اور کرپشن اتنا زیادہ عام ہے کہ اس کو سمجھنے کے لیے کسی عالمی سروے کی ضرورت نہیں ۔ ہر ہندوستانی جانتا ہے کہ یہاں کے سرکاری دفتروں میں کوئی بھی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا، جب کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے برٹش دور کے سرکاری دفتروں میں رشوت کے بغیر ہر کام ہوا کرتا تھا۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ واقعہ ایک بہت بڑی حقیقت کو بتا رہا ہے، وہ یہ کہ ہمارے سیاسی لیڈروں کے عمل کا نقطۂ آغاز ہی درست نہ تھا۔ وہ ایک بہتر ہندوستان بنانا چاہتے تھے۔ اس حقیقت کے حصول کے لیے انھوں نے برٹش رول کے خاتمے کو اپنا نقطۂ آغاز بنایا، حالاں کہ تجربہ بتاتا ہے کہ اُن کے لیے اپنے عمل کا صحیح آغاز یہ تھا کہ وہ ملک سے پیسہ پرستی (money worship) کے ذہن کو ختم کریں۔ پیسہ پرستی ہندوستان کا مقدس کلچر ہے۔ یہی انڈیا کی تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ سنجیدہ مصلح کا کام یہ ہے کہ وہ انڈیا سے پیسہ پرستی کے کلچر کا خاتمہ کرے ۔ یہی اس ملک میں کسی حقیقی تعمیری تحریک کا پہلا
‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues