India is world's No. 1 bribe payer.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۱۰
قدم ہے۔ جب تک یہ کام نہ ہو، دوسرا کوئی کام ہمیں اپنے مطلوب نشانے تک نہیں پہنچا سکتا۔ کچھ صنعتی ترقیوں کا حوالہ دے کر یہ کہا جاتا ہے کہ انڈیا نے آزادی کے بعد بہت ترقی کی ہے۔ یہ ایک مغالطے کی بات ہے۔ اس قسم کی مادی ترقیاں آزادی کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ وہ زمانی حالات کا نتیجہ ہیں۔ موجودہ زمانے میں ساری دنیا میں صنعتی ترقیوں کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ صنعتی ترقی کے اس عمومی سیلاب میں ہر ملک کو اس کا حصہ مل رہا ہے۔ انڈیا میں خواہ کوئی بھی حکومت ہو، اس عالمی سیلاب کا اثر بہر حال انڈیا تک پہنچنا ہی تھا، اور اس کا آغاز خود برٹش دور ہی میں ہو چکا تھا۔ انگریزی زبان کے معاملے میں انڈیا کو امریکہ اور برطانیہ کے بعد دنیا میں تیسرے نمبر کا ملک سمجھا جاتا ہے۔ انگریزی زبان کے معاملے میں انڈیا کا یہ تقدم اس کی صنعتی ترقی کا سب سے بڑا سبب ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ انڈیا کو انگریزی زبان کا تحفہ برٹش رول ہی کے ذریعے ملا تھا۔ وائلنٹ ایکٹوزم اور نان وائلنٹ ایکٹوزم دونوں بظاہر ایک دوسرے سے مختلف طریقے ہیں، مگر دونوں کے درمیان ایک چیز کامن ہے، وہ یہ کہ دونوں مبنی بر پرابلم (problem-based ideology) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں کا مشترک فکر یہ ہے کہ پہلے پرابلم کو راستے سے ہٹاؤ، اس کے بعد ہی آگے کا سفر طے ہو سکے گا۔
مثلاً انڈیا میں دو ہم عصر لیڈر تھے۔ ایک، سبھاش چندر بوس اور دوسرے، مہاتما گاندھی۔ سبھاش چندر بوس وائلنٹ ایکٹوزم پر یقین رکھتے تھے، جب کہ مہاتما گاندھی نان وائلنٹ ایکٹوزم کے وکیل تھے۔ مگر دونوں کا مشترک فکر یہ تھا کہ انگریزوں کا سیاسی اقتدار ایک ایسا مسئلہ ہے جو انڈیا کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے اس مسئلے کو ختم کیا جائے۔ دونوں لیڈروں کے درمیان فرق صرف یہ تھا کہ سبھاش چندر بوس، اس پولیٹکل پرابلم کو تشدد کے زور پر ہٹانا چاہتے تھے، اور مہاتما گاندھی عدم تشدد کے زور پر اس کو دور کرنے کے حامی تھے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں لیڈروں کی فکر نے مشترک طور پر انسانی تفریق کی بُرائی پیدا کی۔ انگریز اور انڈین دونوں انسان تھے، مگر اس تحریک نے دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر دیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues