Al-Risala · February 2007 · page 11

India is world's No. 1 bribe payer.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۱۱

اس تفریقی ذہن کا نتیجہ یہ ہوا کہ انڈیا کی آزادی، کامیڈی (comedy) کے بجائے ٹریجڈی (tragedy) میں تبدیل ہو گئی۔ ہندوؤں مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ نفرت پیدا ہوئی، جو جلد ہی فرقہ وارانہ فساد میں تبدیل ہو گئی۔ اس منفی نتیجے کو پیدا کرنے میں ہندو لیڈروں کے ساتھ مسلم لیڈر بھی یکساں طور پر شریک ہیں۔ کیوں کہ ایک طرف اگر گاندھی اور نہرو اور انگریز کے مقابلے میں اس تفریقی سیاست کو چلا رہے تھے تو دوسری طرف مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی جیسے مسلم لیڈر بھی اس تحریک میں برابر کے شریک تھے۔ اس لیے اس منفی سیاست کی ذمے داری دونوں ہی فرقے کے لیڈروں کے اوپر یکساں طور پر عائد ہوتی ہے۔

تجربہ بتاتا ہے کہ نان وائلنٹ ایکٹوزم میں ایک بنیادی کمزوری شامل ہے، وہ یہ کہ اجتماعی تحریکوں میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ نیا موڑ آتا ہے، اور نیا فیصلہ لینا پڑتا ہے۔ مثلاً کبھی یوٹرن لینا پڑتا ہے، کبھی دشمن کو دوست بنانا پڑتا ہے، کبھی آگے مارچ کرنے کے بجائے پیچھے ہٹنا پڑتا ہے، مگر بلا استثنا ہر نان وائلنٹ تحریک میں یہ ہوا ہے کہ اس کے لوگ نیا فیصلہ لینے میں ناکام ہو گئے، وہ بدلے ہوئے حالات میں بدلا ہوا رسپانس نہ دے سکے۔

انڈیا کے حوالے سے اُس کی ایک مثال یہ ہے کہ ۱۹۴۷ میں آزادی ملنے کے بعد مہاتما گاندھی نے اپنے ساتھیوں کو مشورہ دیا کہ اب تم لوگ آل انڈیا کانگریس کو توڑ دو، اس کی جگہ ایک غیر سیاسی پارٹی بناؤ اور اس کے تحت ملک میں وہ منصفانہ سماج قائم کرو جس میں تمام لوگوں کے آنسو پوچھے جا سکیں، مگر مہاتما گاندھی کے مشورے کو ان کے ساتھیوں نے نہیں سنا اور مہاتما گاندھی کا مشن ادھورا ہو کر رہ گیا۔ اس ناکامی کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مذکورہ قسم کا یوٹرن لینے کے لیے تیار ذہن (prepared mind) درکار تھا، اور یہ تیار ذہن وہاں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ یہ کمزوری بھی وائلنٹ ایکٹوزم اور نان وائلنٹ ایکٹوزم میں یکساں طور پر موجود ہوتی ہے۔ اس لیے کہ دونوں ہی قسم کی تحریکوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنے عمل کا آغاز عملی اقدام سے کرتے ہیں، نہ کہ افراد کی ذہن سازی سے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی گہری تحریک کا صحیح آغاز یہ ہے کہ پہلے افراد کی ذہن سازی کی جائے، اور

‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues

Printed page