(spiritual activism) اسپرپچول ایکٹوزم
الرسالہ، فروری ۲۰۰۷، صفحہ ۱۲
جب ذہن پوری طرح بن چکا ہو تو اس کے بعد عملی اقدام کیا جائے۔ ذہن سازی کے بغیر اقدام کرنے کا مطلب ، بغیر تیاری کے اقدام کرنا ہے ، اور جو اقدام تیاری کے بغیر کیا جائے اس کا انجام پیشگی طور پر معلوم ہے ، اور وہ ہے مکمل تباہی۔
مزید یہ کہ نان وائلنٹ ایکٹوزم کا انجام ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ آخر میں وہ منافقانہ ایکٹوزم بن کر رہ جاتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کامل نان وائلنس عملی طورپر ناممکن ہے۔ اس لیے اس نظریے کے علم بردار اپنے ابتدائی دور میں زور و شور کے ساتھ نان وائلنس کی بات کرتے ہیں ، لیکن بعد کو جب عملی حقائق کا سامنا پیش آتا ہے تو اُس وقت وہ مجبور ہوتے ہیں کہ وائلنس کے ذریعے اپنے مسئلے کو حل کریں۔ اپنے اصول سے اِس انحراف کو جائز ثابت کرنے کے لیے وہ بے بنیاد عذر پیش کرتے ہیں ، جو اُن کے منافقانہ ذہن کو مزید پختہ کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔
اس معاملے کی عملی مثال خود انڈیا ہے۔ انڈیا نے پُو ٹکل آزادی عدم تشدد کے ذریعہ حاصل کی ، لیکن آزادی کے بعد انڈیا کو متعدد بار اپنا یہ فارمولا چھوڑنا پڑا۔ متعدد بار انڈیا مجبور ہوا کہ وہ تشدد کا طریقہ اختیار کر کے اپنے مسائل کو حل کرے۔
گاندھین ماڈل کا ہندوستانی تجربہ بتاتا ہے کہ اس ماڈل کے ذریعے منفی رزلٹ حاصل کرنا تو ممکن ہے ، مگر اس ماڈل کے ذریعے پازیٹیو رزلٹ حاصل کرنا ممکن نہیں۔ نان وائلنٹ ایکٹوزم کا گاندھیائی تجربہ بتاتا ہے کہ اس ماڈل کے ذریعے منفی مقصد کا حصول تو ممکن ہے ، مگر مثبت مقصد کا حصول اس ماڈل کے ذریعے ممکن نہیں۔
(spiritual activism) اسپرپچول ایکٹوزم
اس معاملے میں تیسرا آپشن اسپرپچول ایکٹوزم یا دعوہ ایکٹوزم کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوہ ایکٹوزم ہی ایکٹوزم کی صحیح اور فطری صورت ہے۔ کسی بھی چھوٹے یا بڑے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ دعوہ ایکٹوزم ہی واحد کامیاب ایکٹوزم ہے۔ دعوہ ایکٹوزم میں کوئی منفی پہلو شامل نہیں۔ مزید یہ کہ دعوہ ایکٹوزم ہی کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ اپنے مطلوب مقصد کو اس طرح حاصل کیا جائے کہ کوئی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2007 All issues