Al-Risala · January 2007 · page 5

نئی دہلی ، ۷ مارچ ۲۰۰۶ء دعاگو وحید الدین

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۵

چاہتا تھا۔ مگر آپ نے اس سلسلے میں واضح اور متعین جواب دینے سے اعراض فرمایا۔ آپ کی اس روش کے بعد میں یہ سمجھنے پر مجبور ہوں کہ آپ نے جن بعض حضرات کا تذکرہ اپنی کتاب میں فرمایا تھا وہ محض ایک فرضی حوالہ تھا۔ ایسے حضرت کا یا تو حقیقت میں کوئی وجود نہیں، یا آپ نے مفروضہ بعض حضرات کی طرف ایک ایسی بات منسوب کر دی ہے جو خود انھوں نے نہیں کہی تھی۔

میں عرض کروں گا کہ یہ طریقہ سراسر غیر علمی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ آدمی کو چاہیے کہ وہ ایسا غیر علمی طریقہ اختیار نہ کرے۔ اور اگر کسی وجہ سے اُس نے ایسا کیا تھا تو اب توجہ دلانے کے بعد کھلے طور پر وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرلے۔ اس طرح کی روش آدمی کے اندر غیر علمی مزاج پیدا کرتی ہے، اور آپ یقیناً اس اصول عام سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتے۔

نئی دہلی ، ۷ مارچ ۲۰۰۶ء دعاگو وحید الدین

اس کے بعد ان کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ انھوں نے اپنے مذکورہ خط میں لکھا تھا کہ ’’میری تحریر میں استدلال کی کوئی غلطی ہو تو مطلع فرمائیں‘‘۔ میرے نزدیک یہ بات مغالطہ آمیز بھی ہے اور سخت غیر علمی بھی۔ اس لیے کہ جب صاحب کتاب ’’بعض حضرات‘‘ کا تعین نہ کریں تو کس بنیاد پر ان کے استدلال کا تجزیہ کیا جائے گا۔ بناء دعویٰ کے تعین کے بعد ہی ان کے خلاف، تردیدی بیان کا علمی تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ میرے اس خط کے بعد دوبارہ موصوف کی طرف سے کوئی جواب مجھے وصول نہیں ہوا۔ میرے نزدیک یہ ایک غیر علمی طریقہ ہے کہ آدمی ’’بعض حضرات‘‘ کا متعین حوالہ تو نہ دے سکے مگر ان کے نام پر ایسی تنقید چھاپے جو علمی اعتبار سے سراسر بے وزن ہو۔ تنقید کے لیے علمی جرات ضروری ہے۔ جو لوگ اپنے اندر علمی جرات نہ رکھتے ہوں انھیں ہرگز تنقید کا کام نہیں کرنا چاہیے۔

مراسلت نمبر ــــــــ ۲

ماہ نامہ الفرقان (لکھنؤ) کے مرتب مولانا محمد یحییٰ نعمانی کا ایک مضمون الفرقان کے شمارہ دسمبر ۲۰۰۵ء میں شائع ہوا۔ اس کا عنوان یہ تھا: ’’امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ کا ایک عظیم کارنامہ، شریعتِ اسلامیہ کی حکیمانہ ترجمانی‘‘۔ اس مضمون میں ایک ذیلی عنوان کے تحت، انھوں نے ایک ایسی بات لکھی تھی جو میرے نزدیک علمی اعتبار سے بے بنیاد تھی۔ ان کے اس مضمون کو پڑھ کر صاحب مضمون سے درج ذیل مراسلت ہوئی:

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page