Al-Risala · January 2007 · page 6

مراسلت نمبر ــــــــ ۲

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۷، صفحہ ۶

مکرمی مولا نا محمد یحییٰ نعمانی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ ماہ نامہ الفرقان کے شمارہ دسمبر ۲۰۰۵ میں آپ کا اداریہ دیکھا۔ یہ اداریہ شاہ ولی اللہ دہلوی کے بارے میں ہے۔ اس کا ایک ذیلی عنوان یہ ہے: ’’حکمت ولی اللہ کی عصری معنویت‘۔

اس مضمون میں میں نے اس کے عنوان کے مطابق ،شاہ ولی اللہ کی تعلیمات میں ’’عصری معنویت‘‘ کو تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر یہ عصری معنویت مجھے اس تحریر کے اندر نہیں ملی۔ پورا مضمون بیانیہ انداز میں ہے۔ آپ نے کوئی ایک بھی مثال ایسی نہیں دی جس سے آپ کے دعوے کے مطابق، یہ اندازہ ہو کہ شاہ ولی اللہ کی تحریروں میں عصری معنویت موجود ہے۔ براہ کرم اس سلسلے میں صرف ایک متعین مثال تحریر فرمائیں جس سے معلوم ہو کہ شاہ ولی اللہ کو عصر جدید کا عرفان حاصل تھا اور اس کے مطابق، انھوں نے عصری رہنمائی فرمائی۔ آپ کا مضمون دعوے کی زبان میں ہے، مگر متعین مثال کے بغیر صرف دعوے سے کوئی بات علمی طور پر ثابت نہیں ہوتی۔ نئی دہلی، ۶ دسمبر ۲۰۰۵ء دعا گو وحید الدین یہ خط بذریعہ ڈاک روانہ کرنے کے بعد میں اس کے جواب کا انتظار کرتا رہا۔ جواب نہیں آیا تو میں نے انھیں دوسرا خط روانہ کیا۔ یہ دوسرا خط یہاں نقل کیا جاتا ہے:

برادر محترم مولانا محمد یحییٰ نعمانی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ عرض یہ کہ آپ کے ایک مضمون شائع شدہ الفرقان دسمبر ۲۰۰۵ کے حوالے سے میں نے اپنے خط مؤرخہ ۶ دسمبر ۲۰۰۵ میں آپ سے ایک سوال کیا تھا۔ آپ نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ شاہ ولی اللہ کی تعلیمات ”عصری معنویت‘‘ کی حامل ہیں۔ مجھے شاہ ولی اللہ کی کتابوں میں یہ عصری معنویت نہیں ملی۔ میں نے آپ سے اس کا متعین حوالہ پوچھا تھا، مگر اب تک آپ کی طرف سے مجھے اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔ براہ کرم واضح جواب روانہ فرمائیں۔ نئی دہلی، ۷ جنوری ۲۰۰۶ء دعا گو وحید الدین محترم مضمون نگار کی طرف سے میرے دوسرے خط کا جواب بھی نہیں آیا۔ کافی انتظار کے بعد میں نے یہ تیسرا خط ان کوروانہ کیا:

برادر محترم مولانا محمد یحییٰ نعمانی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ عرض یہ کہ ماہ نامہ الفرقان کے شمارہ دسمبر ۲۰۰۵ میں آپ نے شاہ ولی اللہ دہلوی کے ایک ”عظیم

‹ Previous page Next page › Contents of January 2007 All issues

Printed page